اوٹکور کے قریب ہندو نوجوانوں کی شرپسندی ، تلنگانہ میں یوپی جیسے واقعات کا آغاز
اوٹکور ۔ 28 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اوٹکور منڈل کے اطراف و اکناف فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی روز بروز بڑھتی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ اوٹکور مستقر کا 16 سالہ نوجوان محمد مجاہد ولد عبدالرحمن صاحب نگری جوکہ ہر روز اوٹکور سے دور نارائن پیٹ جاکر مزدوری کا کام کرکے موٹر سیکل سے اوٹکور کو شام 7 بجے واپس ہورہا تھا کہ راستہ میں تپرس پلی گاؤں کے بعد اوٹکور کے قریب چند فرقہ پرست ہندو نوجوانوں نے موٹر سیکل پر آکر مجاہد کو مارا اور پیٹا اور کہا کہ اگر تو جئے شری رام نہیں بولا تو تیرا سر تن سے جُدا کردیں گے ۔ یہ کہہ کر انھوں نے مجاہد کو شدید زخمی کرتے ہوئے اُس کی شرٹ کو پھاڑتے ہوئے اُسے گاڑی پر سے گرادیا جس سے مجاہد پریشان ہوکر چیخنے لگا ۔ مجاہد کی آواز سن کو دوسری طرف سے لوگ آوازیں دیئے جس پر وہ چاروں افراد فرار ہوگئے ۔ اس واقعہ سے خوفزدہ مجاہد روتا اور پریشانی کی حالت میں اوٹکور آگیا ۔ مجاہد کی حالت دیکھ کر والدین اور افراد خاندان نے پولیس اوٹکور پہنچکر شکایت درج کروائی ۔ سی آئی مکتھل شری ستیہ نے اس مقام پر پہنچ کر حالات کی سماعت کی اور ایس آئی اوٹکور راملو نے ایک کیس درج رجسٹر کیا ۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی نارائن پیٹ ، ایس پی ضلع نارائن پیٹ وینکٹیشورلو ۔ ایس آئی مکتھل پرواتالو کے علاوہ اوٹکور مسلمانوں کے تمام جماعتوں کے قائدین ، سیاسی لیڈروں نے پولیس اسٹیشن پہنچکر مجاہد نگری کے ساتھ پیش آئے واقعہ میں انصاف کرنے اور فرقہ پرست ہندو اشرار کو گرفتار کرنے کی پولیس سے اپیل کی ۔