حکومت کی جانب سے واضح احکامات کی عدم اجرائی کے سبب رجسٹری کے عمل میں مسائل کا سامنا
حیدرآباد۔12 اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں موجود کھلی اراضیات و پلاٹس مالکین کے علاوہ نوٹری کی جائیدادو ںکو فروخت کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ نوٹری کی جائیدادوں کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک واضح احکامات کی عدم اجرائی کے سبب رجسٹری نہیں ہوپا رہی ہے اور رجسٹری کے عمل میں درپیش مسائل کی وجہ سے نوٹری پر خریدی گئی جائیدادوں کی خرید و فروخت نہ ہونے کے سبب جو ضرورتمند اپنی جائیدادوں کی فروخت کے ذریعہ اپنی ضرورتوں کی تکمیل کا منصوبہ رکھتے ہیں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی طرح کھلے پلاٹس اور اراضیات پر تعمیرات کی اجازت کیلئے ای سی کے حصول پر اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ ان اراضیات اور کھلے پلاٹس کو محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے رجسٹریشن کے لئے ممنوعہ جائیدادیں قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں اجازت کے حصول کے علاوہ تعمیر کے بعد فروخت میں مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ محکمہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی نئی پالیسی کے تحت سرکاری ‘ اوقافی ‘ نزاعی اور جن جائیدادوں پر مقدمات ہیں ان کے رجسٹریشن کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے تاکہ ان اراضیات کی خرید و فروخت کے ذریعہ شہریوں کو دھوکہ دہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عہدیداروں نے مزید بتایا کہ شہری حدود میں بعض ایسے پلاٹس اور جائیدادوں کی رجسٹری کو بھی ممنوعہ قرار دیا گیا ہے جو کہ ایل آر ایس میں باقاعدہ نہیں بنائی گئی ہیں اور جو لے آؤٹس حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی یا مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے منظورہ نہیں ہیں ان میں موجود پلاٹس کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کی اس پالیسی سے ان خریداروں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے اراضیات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے گذشتہ 10برسوں کے دوران اراضیات کی خریدی میں سرمایہ کاری کی تھی اور اب وہ اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ چند برس قبل جن جائیدادوں کو رجسٹری اور دیگر امور کی جانکاری کے حصول کے بعد رجسٹری کروائی گئی تھی ان جائیدادوں کو 5تا6برس کے دوران رجسٹری کے لئے ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے سبب ہزاروں پلاٹس اور جائیداد مالکین کے عدالت سے رجوع ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کی گئی پالیسی دراصل ریاست میں موجود اراضیات و جائیدادوں کو نزاعات سے پاک بنانے کی کوشش ہے لیکن اس طرح کے اقدامات ان جائیدادوں اور پلاٹس کے علاوہ نوٹری کے مکانات و جائیدادوں کے مالکین کو تنازعات میں مبتلاء کرنے کے مترادف ثابت ہورہے ہیں۔