جنوری کے ابتدائی دو دنوں میں 100 کروڑ کی آمدنی ، حکومت کو رجسٹریشن میں اضافہ کی امید
حیدرآباد: کورونا لاک ڈاون کے نتیجہ میں اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کا عمل متاثر ہوا ، جس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ میں آمدنی متاثر ہوئی ۔ لاک ڈاؤن کے بعد رجسٹریشن کے آغاز سے توقع کی جارہی ہے کہ جنوری کے اختتام تک حکومت کو رجسٹریشن سے تقریباً 1000 کروڑ کی آمدنی ہوگی ۔ نئے سال کے آغاز پر ابتدائی دو دنوں میں غیر زرعی جائیدادوں اور رجسٹریشن سے 100 کروڑ روپئے حاصل ہوئے جس کی بنیاد پر عہدیداروں کو امید ہے کہ ایک ماہ میں آمدنی ایک ہزار کروڑ تک پہنچ جائے گی ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے سلسلہ میں حکومت نے حالیہ شرائط میں نرمی کے ذریعہ عوام اور رئیل اسٹیٹ شعبہ کی مدد کی ہے ۔ ایل آر ایس اسکیم کے سلسلہ میں بعض شبہات پائے جاتے ہیں جن کی عنقریب یکسوئی کردی جائے گی ۔ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن سے قبل محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ کو ماہانہ 600 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ 8 ماہ تک رجسٹریشن کا عمل معطل رہا اور جیسے ہی رجسٹریشن کا آغاز ہوا تمام زیر التواء خرید و فروخت کے معاملات کی یکسوئی کی جانے لگی ۔ عہدیداروں نے کہا کہ نئے سال کا آغاز سرکاری خزانہ کیلئے خوشخبری کے ساتھ ہوا ہے۔ ابتدائی دو دنوں میں 7581 دستاویزات کا رجسٹریشن کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے شرائط میں نرمی کے بعد 14 ڈسمبر سے غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کا آغاز ہوا۔ 31 ڈسمبر تک محکمہ کو 47072 دستاویزات کے رجسٹریشن سے 450 کروڑ کی آمدنی ہوئی ۔ گزشتہ ڈسمبر سے اب تک ریاست میں جملہ 54653 دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ عم حالات میں محکمہ رجسٹریشن کو روزانہ 25 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں یہ آمدنی دوگنی ہوچکی ہے۔ نائب صدرنشین پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے امید ظاہر کی کہ شہر اور اس کے اطراف علاقوں میں رجسٹریشن کی رفتار میں تیزی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سست روی کے باوجود تلنگانہ میں جی ایس ٹی کلکشن حوصلہ افزاء رہا۔ نومبر 2020 ء تک ریاست نے 1692 کروڑ کی آمدنی حاصل کی۔ گزشتہ مالیاتی سال تلنگانہ کو رجسٹریشن سے 7061 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔