جائیدادوں کے مالکین پریشان حال ، کرایہ دار بے یار و مددگار

   

تجارت ٹھپ ، کرایہ میں تخفیف پر زور ، تاجر اور جائیداد مالکین کے لیے مشکل ترین صورتحال
حیدرآباد۔ شہر میں تجارتی جائیدادوں اور آفس کی جگہ کے مالکین پریشانیوں میں مبتلاء ہونے لگے ہیں اور ان کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ان کی جائیدادوں میں موجود کرایہ دار جگہ کا تخلیہ کرنے لگے ہیں یا پھر ان کے کرایہ نامو ںمیں تبدیلی کے ساتھ کرایوں میں کمی کی جانے لگی ہے کیونکہ تخلیہ کی صورت میں جو کرایہ آرہا ہے وہ بھی آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد میں موجود کئی سوپر مارکٹس اور بڑے تجارتی اداروں کے علاوہ دفاتر کی جانب سے مالکین جائیداد کو کرایہ کم کرنے کے لئے مکتوبات روانہ کئے جانے لگے ہیں اور ان سے 20تا80فیصد کرایہ میں تخفیف کی خواہش کی جارہی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں کرایہ کی ادائیگی انتہائی مشکل ترین عمل بن چکی ہے اور کئی تجارتی اداروں کی جانب سے سرگرمیوں کو مکمل طورپر شروع کرنے سے قبل مالکین جائیداد سے نئے کرایہ نامہ اور نئے کرایہ کی توثیق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں موجود کافی شاپ اسٹار بکس کی جانب سے ابتدائی لاک ڈاؤن کے دوران ہی اپنے آؤٹ لیٹس کے مالکین جائیداد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کرایہ میں 50 فیصد کی کمی یا پھر تخلیہ کے لئے حامی بھرتے ہوئے بقایاجات ادا کردینے کی خواہش کی گئی تھی لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں نہ صرف بڑے نیٹ ورک اور تجارتی ادارے بلکہ دفاتر کی جانب سے بھی فلیٹس اور دیگر دفاتر کی جگہوں پر مالکین جائیداد کی جانب سے نوٹس جاری کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ ملک کی بیشتر تمام ریاستوں میں یہ صورتحال دیکھی جا رہی ہے اور مالکین جائیداد جو ان کرایوں پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ ان کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ کرایوں میں کمی کے بعد کرایہ دوبارہ لاک ڈاؤن سے قبل کا ہونے کے لئے برسوں لگ سکتے ہیںاسی لئے وہ کرایوں میں فوری کمی کے حق میں نہیں ہیں لیکن وہ ان کے پاس موجود کرایہ داروں کو تخلیہ کروانے کے حق میں بھی نہیں ہیں کیونکہ ان کو دوبارہ فوری کرایہ دار مل جانے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔کرایہ پر موجود کمپنیوں کے دفاتر اور سوپر مارکٹس چلانے والوں کا کہناہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد تجارتی سرگرمیو ںریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے دور ہونے کے درکار مدت کو دیکھتے ہوئے ان کی جانب سے کرایوں میں کمی لانے کی خواہش کی جا رہی ہے اور ایسا نہ کرنے پر انہیں بھاری تجارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔