جادھوپور یونیورسٹی ‘ایس ایف آئی و اے بی وی پی کارکنوں میں تصادم، کئی طلبہ زخمی، کیمپس میں کشیدگی

   

کولکاتا، 20 اگست (ایجنسیز) کولکاتا کی جادھوپور یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں میں تنازعہ نے کشیدگی اختیار کرلی، جہاں ایس ایف آئی اور اے بی وی پی کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوگئے۔ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا، جس کے بعد زخمی طلبہ میں سے کچھ کو کے پی سی میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تنازعہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین جنرل باڈی اجلاس پر شروع ہوا۔ دونوں طلبہ تنظیموں نے ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایس ایف آئی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے اے بی وی پی جادھوپور یونیورسٹی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ باہر سے لوگوں کو کیمپس میں لایا گیا اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ دوسری جانب اے بی وی پی نے الزام عائد کیا کہ ایس ایف آئی نے سوشلسٹ یونٹی سینٹر (کمیونسٹ) سے وابستہ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کارکنوں کے ساتھ جنرل باڈی اجلاس کی آڑ میں اس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا۔ تصادم میں زخمی بعض طلبہ کو کے پی سی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جادھوپور اسمبلی حلقے کی بی جے پی رکن سربوری مکھرجی جمعرات کی صبح ہسپتال پہنچیں اور طلبہ کی عیادت کی۔ دونوں تنظیموں نے پولیس میں الگ الگ ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔ پولیس نے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی تھی۔ اے بی وی پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن شوبھبرت ادھیکاری نے الزام لگایا کہ حملے میں صرف ایس ایف آئی کارکن نہیں بلکہ دیگر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔ انہوں نے بعض افراد کے مبینہ روابط بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں سے ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ ایس ایف آئی کے جنرل سیکریٹری سریجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ اس میں ایس ایف آئی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہیں جو اطلاعات ملی ہیں، ان کے تحت اے بی وی پی کارکنوں نے مقامی بی جے پی کی مدد سے کیمپس میں توڑ پھوڑ کی۔ بھٹاچاریہ نے سوال اٹھایا کہ اگر اے بی وی پی طلبہ برادری میں حمایت رکھتی ہے تو وہ انتخابات کا سامنا کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔