جادھو کیلئے وکیل مقرر کرنے ہندوستان کو ایک اور موقع

   

اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم ۔عدالتی احکام پر حکومت پاکستان کا مثبت ردعمل

اسلام آباد : سزائے موت پانے والا قیدی کلبھوشن جادھو کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اور موقع دینے کا حکم دیا ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کی طرف سے ہندوستان کو پیشکش کی جائے گی کہ جادھو کے لئے کوئی وکیل مقرر کرے۔ پچاس سالہ ریٹائرڈ انڈین نیوی آفیسر جادھو کو اپریل 2017ء میں پاکستانی ملٹری کورٹ نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات پر سزائے موت سنائی تھی ۔ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف ( آئی سی جے ) کا دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ پڑوسی ملک نے جادھو تک سفارتی رسائی فراہم کرنے اور سزائے موت کے جواز کو چیلنج کرنے کا موقع دینے سے انکار کیا تھا ۔ دی ہیگ میں قائم آئی سی جے نے جولائی 2019 ء میں رولنگ دی کہ پاکستان کو چاہئے کہ جادھو کو سزا دہی اور اُسے سنائی گئی سزا کے تعلق سے نظرثانی اور مکرر غور و خوص کا موثر انتظام کرے نیز ہندوستان کو مزید تاخیر کے بغیر سفارتی رسائی عطا کرے ۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جادھو کے لئے وکیل کے تقرر کے سلسلے میں حکومت پاکستان کی داخل کردہ پٹیشن کی سماعت کی۔ حکومت پاکستان نے عرضی میں عدالت سے درخواست کی کہ جادھو کے لئے کوئی قانونی نمائندہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ آئی سی جے کے فیصلے پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرسکے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جادھو نے نظرثانی کی عرضی داخل کرنے سے انکار کیا ہے یعنی وہ ملٹری عدالت کی جانب سے اُن کے خلاف فیصلے پر نظرثانی کرانا نہیں چاہتا ۔ جسٹس من اللہ کے حوالے سے جیو نیوز نے کہاکہ اب چونکہ معاملہ ہائیکورٹ میں ہے اس لئے کیوں نہ ہندوستان کو ایک اور موقع دیا جائے ۔ جج نے کہاکہ ہندوستانی حکومت یا جادھو درخواست نظرثانی کے تعلق سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرسکتے ہیں۔ چنانچہ انڈیا اور جادھو کو دوبارہ کوئی قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی پیشکش کرنا چاہئے ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ یہ بات جادھو تک پہونچائیں اور اُس سے کہیں کہ وکیل کو مقرر کرنا چاہئے ۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ حکومت جادھو کے لئے کونسل مقرر کرنے کے سلسلے میں ہندوستان سے رجوع ہوں ۔ عدالت نے کہاکہ منصفانہ شنوائی جادھو کا حق ہے ۔ جج کے ریمارکس کے جواب میں پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ ہندوستان اور جادھو کو موقع دینے کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ ملٹری کورٹ کی سنائی گئی سزا کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم دفتر خارجہ کے ذریعہ ہندوستان سے ربط پیدا کریں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ عام روایت کے مطابق اگر کوئی ملزم یا مجرم کی طرف سے وکیل مقرر نہ کیا جائے تو عدالتیں اُس کا تقرر کرتی ہیں۔