میں 2047 تک ملک کو ترقی یافتہ بنانے تیزرفتار سے دوڑ رہا ہوں، وزیراعظم مودی کا ریالی سے خطاب
اعظم گڑھ : وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ سے 34ہزار 700 کروڑ روپئے اخراجات والی 782 پراجکٹس کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کہا کہ سال2024 میں جن پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے اسے کوئی بھی الیکشن کے چشمے سے نہ دیکھے ۔وزیر اعظم نے یہاں اعظم گڑھ میں ائرپورٹ اور اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے لئے کئی ترقیاتی پراجکٹس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال2024 میں جن پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے اسے کوئی بھی انتخابی چشمے سے نہ دیکھے یہ ترقی کے لئے میری نہ ختم ہونے والے سفر کا نتیجہ ہے ۔ میں 2047 تک ملک کو ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے تیز رفتار سے دوڑ رہاہوں اور ملک کو تیز رفتاری سے دوڑا رہا ہوں۔مودی نے اپنے خطاب کے دوران کہا آج صرف اعظم گڑھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے کئی ترقیاتی پراجکٹس کا افتتاح یہاں سے ہورہا ہے ۔جس اعظم گڑھ کو ملک کے پچھڑے علاقوں میں شمار کرتے تھے آج وہی ملک کے لئے ترقی کا نیا باب لکھ رہا ہے ۔آج اعظم گڑھ سے کئی ریاستوں کے لئے تقریبا 34ہزار700 کروڑ روپئے کے پراجکٹسکا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے ریلی میں موجود عوامی جم غفیر کے جوش و لولہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا آپ کا یہ پیار اور اعظم گڑھ کی یہ ترقی ذات واد، کنبہ پروی اور ووٹ بینک کے بھروسے بیٹھے انڈیا اتحاد کی نیند اڑا رہا ہے ۔ پوروانچل نے دہائیوں تک ذات واد اور منھ بھرائی کی سیاست دیکھی ہے ۔ اور گذشتہ دس سالوں سے یہ علاقہ ترقی کی سیاست دیکھ رہا ہے ۔سابقہ حکومتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کی حکومتوں کا یہ مزاج بن گیا تھا کہ وہ الیکشن کے دنوں میں آکے پتھر گاڑ کر عوام کو بیوقوف بناتے تھے اور پھر غائب ہوجاتے تھے ۔ ان کی یہ ہمت ہوگئی تھی کہ پارلیمنٹ میں بھی انتخابی فائدے کے لئے اعلانات کردیتے تھے اور الیکشن کے بعد اس پر خاموش ہوکر بیٹھ جاتے تھے ۔انہوں نے کہا آپ لوگوں کو یاد رہیکہ کیسے اسی اترپریش میں سرکار چلانے والوں نے گنا کسانوں کو رلایا تھا۔ ان کا پیسہ ہی ترسا۔ترسا کر دیا جاتا تھا یا کئی بار تو ملتا ہی نہیں تھا۔ یہ بی جے پی کی ھکومت ہے جس نے گنا کسانوں کا ہزار کروڑ روپئے کا بقایہ ختم کرایا۔آج گنا کسانوں کو صحیح وقت پر ان کی قیمت مل جاتی ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ کسانوں کو آج پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھی ہوئی ایم ایس پی دی جارہی ہے ۔ گناکسانوں کے لئے بھی اس سال نفع بخش قیمت میں 8فیصدی کا اضافہ کیا گیااب گنا کی قیمت315روپئے سے بڑھا کر 340 روپئے فی کوئنٹل کردی گئی ہے ۔
