10 سال میں پنشن ادائیگیوں میں اضافہ، محکمہ فینانس تخمینہ کی تیاری میں مصروف
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاریہ سال 9 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین ریٹائرڈ ہونے کا اندازہ ہے ۔ سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر کوبڑھاکر 61 سال کرنے کے بعد سال 2021-22 سے مارچ 2023-24 تک سرکاری ملازمین کی کوئی بڑی ریٹائرمنٹ نہیں ہوئی ۔ یکم مارچ سے نئے مالیاتی سال 2025-26 میں 9 ہزار سے زیادہ ملازمین ریٹارڈ ہورہے ہیں ۔ محکمہ فینانس سے مختلف محکمہ جات میں سبکدوش ہونے والے ملازمین کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جارہی ہے ۔ ریٹائرڈمنٹ کے بعد انہیں ریٹائرمنٹ فوائد کے تحت کتنی رقم ادا کرنی پڑیگی ، اس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ان مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات سے تنخواہوں کیلئے درکار فنڈز کا تخمینہ لگایا جارہا ہے ۔ گزشتہ 10 سال میں ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی رقم میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر ریاست میں 2014 سے تاحال 85 ہزار سرکاری ملازمین ریٹائرڈ ہوئے۔ سال 2014-15 تک تلنگانہ میں ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد 2,44,723 تھی ، جنہیں 7046 کروڑ روپئے پنشن ادا کیا جارہا تھا جو سال 2025-26 میں اس کی تعداد بڑھاکر 21 ہزار کروڑ پہنچ جانے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ ریاست میں سال 2017-18 کے دوران 2,57,604 ریٹائرڈ ملازمین کو 11,417 کروڑ روپئے حکومت نے پنشن ادا کیا۔ سال 2023-24 میں ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد م یں 0.64 فیصد (2184) کے ا ضافہ کے ساتھ 2,59,788 تک پہنچ گئی۔ تاہم پنشن ادا ئیگی کی رقم 44.50 فیصد بڑھکر 16,499 کروڑ روپئے تک پہنچ گئی۔ جاریہ مالیاتی سال سے ہر سال 9 تا 10 ہزار سرکاری ملاممین ریٹائرڈ ہونے کا اندازہ ہے ۔ انہیں ریٹائرمنٹ فوائد اور پنشن کی رقم ہر سال ایک ہزار کروڑ روپئے ہونے کا ابتدائی اندازہ ہے ۔ ڈی اے میں اضافہ کے ساتھ تنخواہوں پر نظر ثانی (بی آر سی) زیر التواء ہے ، اس پر عمل سے خزانے پر مزید مالی بوجھ بڑھ جائیگا۔ ریاست میں سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں جس سے تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے سالانہ 36 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔ اس تناظر میں محکمہ فینانس کی جانب سے پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے تخمینے تیار کر رہی ہے۔2