جاریہ ماہ کے اواخر میں ریاستی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

,

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر کی قائدین سے مشاورت، 5 وزراء کی علحدگی،نوجوانوں کو موقع
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں دوسری میعاد کے دو سال کی تکمیل پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حکومت اور پارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دوباک اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ سے فکر مند چیف منسٹر نے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے نوجوان قائدین کو اہم ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی اور دوسری میعاد میں نوجوان ارکان اسمبلی کو کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر ناراضگی کا ماحول ہے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں چیف منسٹر کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے مشیران اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کی۔ امکان ہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک کابینہ میں تبدیلی کی جائے گی اور تقریباً 5 نئے وزراء کو موقع دیا جائے گا۔ چیف منسٹر بعض وزراء کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں وزارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرسکتے ہیں۔ نئے چہروں کی شمولیت سے نہ صرف حکومت بلکہ پارٹی کی سطح پر کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں بعض وزراء مختلف تنازعات میں ملوث پائے گئے اور سوشیل میڈیا میں حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کا اپوزیشن کو موقع ملا ہے۔ ملکاجگیری اور کریم نگر سے تعلق رکھنے والے وزراء کی کارکردگی سے چیف منسٹر مطمئن نہیں ہیں اور وہ قطعی فیصلہ اندرون ایک ہفتہ کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے دو سال کی تکمیل اور حالیہ انتخابی نتائج کو بنیاد بناکر تبدیلیوں کا ارادہ ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چھ سال تک ٹی آر ایس تلنگانہ میں ناقابل تسخیر طاقت کی طرح برقرار رہی لیکن دوباک اور گریٹر حیدرآباد کے نتائج نے اس بھرم کو توڑ دیا اور عوامی ناراضگی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم کی کمزوری کا بی جے پی نے فائدہ اٹھایا اور مخالف حکومت ووٹ بی جے پی کی طرف راغب ہوگئے۔ 2014 کے بعد سے کسی بھی ضمنی چناؤ اور مجالس مقامی کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو شکست نہیں ہوئی۔ اب جبکہ تلنگانہ میں بی جے پی قدم جمانا چاہتی ہے لہذا حکومت اور پارٹی کو متحرک کرنے کے سی آر وزارت میں ردوبدل کریں گے۔ اس کے علاوہ پارٹی کی سطح پر نوجوانوں کو اہم ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔ ٹی آر ایس کے حلقوں میں رکن کونسل کویتا کی کابینہ میں شمولیت کو یقینی قرار دیا جارہا ہے۔