جامعہ عثمانیہ فلائی اوور کی خستہ حالت پر فوری توجہ کی ضرورت

   

حیدرآباد ۔ 30 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جامعہ عثمانیہ فلائی اوور گذشتہ کئی سال سے خستہ حالت میں ہے ۔ اس فلائی اوور کے ساتھ سیتا پھل منڈی ، تارناکہ اور لالہ پیٹ میں موجود دیگر فلائی اوورس کو بھی خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے ۔ راہ گیروں کو ہونے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تارناکہ ریزیڈنٹس ویلفیر اسویس ایشن کے ارکان نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) کے عہدیداروں سے ان فلائی اوورس کی مرمت کرتے ہوئے ان کی حالت کو بہتر بنانے کی درخواست کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق جامعہ عثمانیہ فلائی اوور پر کئی گڑھے ہوگئے ہیں اور دو سلابس کے درمیان اس کے سپورٹ جوائنٹس نکل گئے ہیں ۔ گڑھوں کو بھرنے کے لیے میٹرئیل ٹھیک طور پر نہیں ڈالا گیا جس کی وجہ سے سطح ناہموار ہوگئی ہے ۔ اس برج کو 2007 میں کھولا گیا تھا جس سے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں رہنے والوں کے لیے بڑی راحت ہوئی تھی لیکن اب اس سے موٹر گاڑی والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سال سے موٹر گاڑی والوں کو گاڑی چلانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے اور انہیں اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیدار ان کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ اس شخص نے کہا کہ ہم جامعہ عثمانیہ فلائی اوور کی مرمت کے لیے متعلقہ عہدیداروں سے شکایت کرتے عاجز آگئے ہیں ۔ اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ اس فلائی اوور کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کی فوری مرمت ضروری ہے چونکہ اس برج کا آدھا حصہ مشیر آباد زون کے تحت آتا ہے اور دوسرا سکندرآباد زون کے تحت اس لیے زونس کے درمیان ایک کشمکش کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ تارناکہ اسوسی ایشن فار سرویس اینڈ نالج کے جنرل سکریٹری سید خالد شاہ چشتی حسینی کے مطابق حالیہ بارش میں جامعہ عثمانیہ فلائی اوور کو نقصان پہنچا ۔ مکمل لین کو نقصان ہوا ہے جس کی وجہ گاڑیاں چلانے کافی دشواری اور مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ اس فلائی اوور پر مناسب ڈیوائیڈر نہ ہونے کی وجہ کافی الجھن ہورہی ہے ۔ گذشتہ دو ماہ میں کئی حادثات ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ مصروف اوقات میں ٹریفک کا بہت مسئلہ ہوتا ہے ۔ اس فلائی اوور علاوہ سیتا پھل منڈی ، تارناکہ اور لالہ پیٹ میں فلائی اوورس کی مرمت کرتے ہوئے خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے ۔۔