جامعہ عثمانیہ کے کنٹراکٹ و عارضی ملازمین ہراسانی کا شکار

   

تحریک تلنگانہ کے دوران ٹی آر ایس کی یقین دہانی فراموش
حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ ملازمین کے ساتھ انتظامیہ کے روا سلوک سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کنٹراکٹ اور عارضی ملازمین کو ہراساں کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے ترک کرنے پر مجبور کیا جا رہاہے کیونکہ کنٹراکٹ ملازمین کے علاوہ عارضی ملازمین سے من مانی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور ان پر واضح کیا جا رہاہے کہ ان کی خدمات کو کبھی باقاعدہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ تحریک تلنگانہ کے دوران تلنگانہ راشٹرسمیتی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ اور عارضی عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا اور تشکیل تلنگانہ کے بعد سے جامعہ عثمانیہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن تشکیل تلنگانہ کے 7 سال کے بعد بھی شہر حیدرآباد کے معروف جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ریاست بھر کی جامعات میں وائس چانسلرس کے تقررات کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ جامعہ عثمانیہ کے حالات میں تبدیلی آئے گی اور نئے وائس چانسلر کے دور میں عارضی اور کنٹراکٹ ملازمین کے مستقبل کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیںگے لیکن نئے وائس چانسلر کے تقرر کے بعد جامعہ عثمانیہ کے حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے لگا ہے اور عرصہ دراز سے خدمات انجام دینے والے سیکیوریٹی عملہ کو فوری اثر کے ساتھ ہٹاتے ہوئے ایجنسی کے ذریعہ سابق فوجیوں کو جامعہ کی سیکیوریٹی کے لئے مقرر کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ جامعہ عثمانیہ میں عارضی اور کنٹراکٹ کے اساس پر خدمات انجام دینے والے ملازمین میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ شامل ہے اس کے باوجود ان کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ مستقل ملازمین اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جس طرح سے سیکیوریٹی عملہ کو برخواست کیا گیا ہے اسی طرح سے کسی کو بھی برخواست کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جامعہ عثمانیہ میں برسراقتدار سیاسی جماعت کے قائدین اپنی من مانی کر رہے ہیں اور یونیورسٹی کی جانب سے دیئے جانے والے مختلف ٹھیکہ حاصل کرتے ہوئے ملازمین کو ہراساں کرنے کے علاوہ کنٹراکٹ ملازمین و عارضی ملازمین کو دھمکایا جا رہاہے۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی میں ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے خدما ت انجام دینے والی تنظیموں کے قائدین نے بتایا کہ انہیں بھی یہ شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن انہیں انتظامیہ پر اعتماد ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی کاروائی کو عملی جامہ نہیں پہنائے گا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں عدالتی رسہ کشی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے وہ موجودہ صورتحال سے وائس چانسلر کو بھی واقف کرواچکے ہیں۔م
شادی کیلئے لائی گئی کار کو آگ لگادی گئی
حیدرآباد 11 نومبر ( یو این آئی ) شادی کیلئے کرایہ پر حاصل کردہ کار کو بعض نامعلوم افراد نے آگ لگادی۔یہ واقعہ تلنگانہ کے ضلع مُلگ کے منگاپیٹ منڈل کے گمپونی گوڑم میں پیش آیا۔تفصیلات کے مطابق شادی کیلئے کرایہ پر کار حاصل کی گئی تھی اور اس کو سجایاگیا تھا۔اس کار میں صبح ہونے والی اس شادی میں جانے کے لئے تمام باراتی تیار تھے کہ رات دیرگئے بعض نامعلوم افراد نے کار کو پٹرول ڈال کر آگ لگادی۔