جامع مسجد دوباک میں صدر کمیٹی پر قاتلانہ حملہ، مصلیوں میں ہلچل

   

ملزمین کو شب برأت کے تقدس تک کا خیال نہیں، خاطیوں کو سخت سزا دینے پولیس سب انسپکٹر کا تیقن

دوباک : شب برأت کے موقع پر جہاں ایک طرف دنیا بھر میں اللہ کے نیک بندے عبادات و ذکرو اذکار میں مشغول ہوکر اللہ کی رضامندی و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں دوسری طرف دوباک میں حیرت زدہ کردینے والا واقعہ پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق دوباک میں جامع مسجد کمیٹی صدر محمد خلیل شب برأت کے موقع پر مسجد میں دعوت میں مشغول تھے، اسی دوران جامع مسجد کمیٹی سابق صدر محمد آصف کے بھتیجہ نے مسجد میں آکر چاقو سے موجودہ صدر محمد خلیل پر جان لیوا حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر مسجد میں موجود مصلیوں میں ہلچل مچ گئی۔ جامع مسجد کمیٹی صدر محمد خلیل آج تمام کمیٹی کے ذمہ دار حضرات و گاؤں والوں کو لے کر دوباک پولیس اسٹیشن پہنچے اور دوباک سب انسپکٹر منے سوامی کو ایک شکایت پیش کی۔ قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ملزم محمد سمیر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر صدر محمد خلیل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محمد سمیر ایک نوجوان لڑکا ہے جس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، نہ کوئی اس نوجوان سے ذاتی دشمنی ہے۔ اس نوجوان کو دوباک جامع مسجد کمیٹی کے سابق صدر محمد آصف ہی نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاتلانہ حملہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے نوجوان محمد سمیر نے دھمکی دی ہے کہ آج میرے ہاتھوں بچ گئے لیکن آئندہ تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ اس پورے پلان کے پیچھے سابق صدر محمد آصف کا ہاتھ ہے۔ لہذا پولیس سے گذارش ہے کہ اس قاتلانہ حملہ کے پیچھے چھپے مجرموں کو منظرعام پر لایا جائے، اچھے طریقہ سے اس واقعہ کی جانچ پڑتال کی جائے۔ اس موقع پر پولیس سب انسپکٹر منے سوامی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس قاتلانہ حملہ کے واقعہ کی پوری طرح پوچھ تاچھ کریں گے۔ اس قاتلانہ حملہ و دھمکیوں کے پیچھے چھپے مجرموںکو قانون کے دائرہ میں سخت سزا دینے کا تیقن دیا۔ اس موقع پر دوباک کے مسلم نوجوان و کمیٹی کے تمام ذمہ دار حضرات کثیر تعداد میں موجود تھے۔