تلنگانہ مایناریٹی کمیشن کا تاریخی فیصلہ ، مسلمانان محبوب نگر میں مسرت کی لہر
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ) : کیس نمبر 2019/376 تلنگانہ اسٹیٹ مایناریٹی کمیشن میں بتایا گیا کہ محبوب نگر کی قدیم و عظیم جامع مسجد برہمن واڑی میں ایک سو دس گز پر مشتمل اراضی 4-9-3 کو کرایہ پر دے دی تھی ۔ کرایہ نہ دینے کی بناء پر اس وقت کی مجلس انتظامی نے ایک مقدمہ 1971 میں کرایہ دار دوڈپا گولی ولدکنڈپا گولی کے خلاف دائر کیا تھا جو 1982 ء محبوب نگر کی مقامی عدالت نے جامع مسجد کے سابقہ کمیٹی کودوڈپا گولی سے اراضی کو جامع مسجد کے حوالے کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے احکام جاری کئے تھے ۔ دوڈپا کے دیہانت کے بعد اس کے بیٹے بابو گولی نے مسجد کی اراضی پر قابض و متصرف رہا اس کے دیہانت کے بعد اس کے بیٹے ایل وینکٹیش اور ایل بھاسکر تاحال اس اراضی پر قابض و متصرف رہے اس کے خلاف محمد قمر الدین صدر نشین اقلیتی کمیشن سے دس ماہ قبل جناب محمد عبدالسمیع صدر مجلس انتظامی کمیٹی کی ہدایت پر محمد تاج الدین نقشبندی خازن جامع مسجد نے ایک درخواست کمیشن کو دی تھی اس کیس کو مکمل ہونے تک نائب صدر جامع مسجد محمد عبدالرفیع ذکی نے جدوجہد کرتے ہوئے کمیشن کے صدر دفتر خیریت آباد ، حیدرآباد میں صدر نشین نے محمد ذکی کو جامع مسجد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے فیصلہ کی کاپی حوالہ کی ۔ اس کیس میں ریٹائرڈجج محمد عبدالباسط ، محمد عبدالقدیر صدیقی لیگل اڈوائزر نے غیر معمولی جدوجہد کی جس پر صدر مجلس انتظامی ایم اے سمیع ، سید شاہ امین الدین قادری نائب صدر جامع مسجد ، محمد عبدالرفیع ذکی ، محمد تاج الدین نقشبندی خازن ، محمد عبدالرحمن ریگل نائب معتمد ، محمد ظفر علی رکن نے چیرمین اقلیتی کمیشن محمد قمر الدین ، محمد عبدالباسط ریٹائرڈ جج و دیگر وکلاء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ سے مسلمانان محبوب نگر میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔ فیصلہ کی کاپی ضلع کلکٹر ، ضلع ایس پی ، چیف ایکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو روانہ کردی گئی ہے ۔۔