جانا ریڈی سے مقابلہ کیلئے ٹی آر ایس و بی جے پی کو امیدوار کی تلاش

   


ناگرجنا ساگر میں سکھیندر ریڈی کی مہم کا آغاز ، مقامی کیڈر نرسمہیا کے فرزند کے حق میں
حیدرآباد: ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کے سینئر لیڈر کے جانا ریڈی سے مقابلہ کیلئے ٹی آر ایس اور بی جے پی نے امیدواروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ کانگریس نے پہلے ہی جانا ریڈی کی امیدواری کا اعلان کردیا ہے جو سابق میں اس حلقہ سے منتخب ہوچکے ہیں۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں سی پی ایم سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے این نرسمہیا نے جانا ریڈی کو معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی ۔ جانا ریڈی 7 مرتبہ اس حلقہ سے اسمبلی کیلئے منتخب ہوچکے ہیں۔ جانا ریڈی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے کانگریس ہائی کمان نے پردیش کانگریس کے صدر کے انتخاب کا عمل موخر کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس اس حلقہ پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتی ہے جبکہ بی جے پی دوباک کی طرح غیر متوقع کامیابی کی فراق میں ہے۔ مقامی کیڈر کی جانب سے این نرسمہیا کے فرزند این بھگت کو ٹکٹ دیئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ پارٹی نے جانا ریڈی کو شکست دینے کیلئے قانون ساز کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی کے نام کو زیر غور رکھا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد امیدوار کے نام کو منظوری دیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکھیندر ریڈی کو انتخابی مہم کے آغاز کا اشارہ دیا جاچکا ہے اور وہ ناگرجنا ساگر حلقہ میں روزانہ کئی پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں۔ کانگریس ، ٹی آر ایس اور بی جے پی کے لئے یہ نشست وقار کا مسئلہ بن چکی ہے۔ دوباک اور گریٹر حیدرآباد انتخابات میں بہتر نتائج سے بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں۔ بی جے پی نے جانا ریڈی اور ان کے فرزند کو پارٹی میں شمولیت کا پیشکش کیا تھا لیکن جانا ریڈی دوبارہ کانگریس سے مقابلہ کے حق میں ہیں۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے کانگریس نے ضمنی انتخابات میں مسلسل شکست کا سامنا کیا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کے احیاء کے لئے پارٹی قائدین متحدہ طور پر انتخابی مہم کے ذریعہ ناگرجنا ساگر میں شکست کی روایت کو توڑنا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول کی اجرائی کے بعد حلقہ میں صورتحال واضح ہوگی ۔