ناگرجنا ساگر ضمنی انتخاب کے بعد ٹی آر ایس ناقابل تسخیر ہوگی۔ کے سی آر کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے کی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ سینئر کانگریس قائد کے جانا ریڈی کا جہاں سورج غروب ہوجائے گا وہیں ٹی آر ایس کے نوجوان امیدوار این بھگت کمار کا سورج طلوع ہوگا۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بڑے پیمانے پر ٹی آر ایس میں شامل ہوں گے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ضلع نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس قائدین پر زور دیا کہ وہ اپنی صفحوں میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور پارٹی امیدوار این بھگت کمار کو صرف کامیاب بنانے کے لئے نہیں بلکہ بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے پر توجہ دیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس کا زوال ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ عوام سے جنم لینے والی سیاسی جماعت ہے۔ دہوں سے زیر التواء تلنگانہ ریاست کے خواب کو ٹی آر ایس نے شرمندہ تعبیر کروایا ہے اور سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود اور تلنگانہ کو سنہری ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے کام کیا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین کو عہدوں سے زیادہ ریاست کے مفادات اہم ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں تعمیری رول ادا کرنے میں ناکام ہوگئی جس کی وجہ سے عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بننے کے علاوہ ٹرمیونل اور عدالتوں کو رجوع ہو رہے جور مرکزی حکومت کو جھوٹی معلومات فراہم کررہی ہیں۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود وہ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کو روکنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ عوام فلاحی اسکیمات سے استفادہ کررہے ہیں۔ سرکاری ملازمین مطمئن ہیں، بیروزگاری کو دور کرنے کے لئے 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں۔ ملازمتوں سے محروم رہنے والوں کو بیروزگاری بھتہ دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ دوباک ضمنی انتخابات میں زیادہ خود اعتمادی سے پارٹی کو نقصان ہوا ۔ معمولی ووٹوں سے شکست کو اپوزیشن نے رائی کا پہاڑ بنا دیا جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں گمراہ کن مہم چلاتے ہوئے ٹی آر ایس کو نقصان پہنچایا گیا۔ گریجویٹ حلقوں کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی سیاسی طاقت کا اندازہ ہوگیا۔ ناگرجنا ساگر میں بھی ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جانا ریڈی کو عوام نے مسترد کردیا۔ پھر ایک بار شکست ان کی قسمت میں لکھی ہے۔