ہائی کمان کی منظوری، مقامی ٹی آر ایس کیڈر میں اختلافات
حیدرآباد: ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کے سینئر لیڈر کے جانا ریڈی کا مقابلہ کرنا تقریباً طئے ہوچکا ہے ۔ کانگریس ہائی کمان نے جانا ریڈی کو ضمنی چناؤ میں مقابلہ کیلئے کامیاب ترغیب دی ہے۔ جانا ریڈی جو اس حلقہ سے پانچ مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں، انہیں 2018 ء کے انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار این نرسمہیا سے محض 7000 ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی ۔ ناگرجنا ساگر کا علاقہ سابق میں کوداڑ اسمبلی حلقہ کے تحت تھا ۔ حلقوں کی از سر نو حدبندی کے بعد ناگرجنا ساگر حلقہ تشکیل دیا گیا۔ بی جے پی نے جانا ریڈی اور ان کے فرزند کو شمولیت کی ترغیب دی لیکن اسے ناکامی ہوئی ۔ کانگریس کا احساس ہے کہ صرف جانا ریڈی اس حلقہ میں کانگریس کو کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ٹی آر ایس نے اس حلقہ کے امیدوار کے بارے میں ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قانون ساز کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی یا پھر نرسمہیا کے فرزند کو ٹکٹ دیا جاسکتا ہے ۔ مقامی ٹی آر ایس کیڈر نرسمہیا کے فرزند کی امیدواری کے حق میں نہیں ہے کیونکہ 2018 انتخابات سے قبل سی پی ایم سے انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ پارٹی کیڈر مقامی کسی ٹی آر ایس لیڈر کو ٹکٹ دینے کی مانگ کر رہا ہے۔ جانا ریڈی کی امیدواری اس اعتبار سے بھی یقینی ہوچکی ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے ان کے مکتوب پر پردیش کانگریس کے نئے صدر کے نام کا اعلان موخر کردیا ہے۔ پارٹی میں مزید اختلافات کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے جانا ریڈی نے سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ دراصل پردیش کانگریس کے صدر کے اعلان کو روکنے میں ریونت ریڈی کے حامیوں کا اہم رول رہا۔ بتایاجاتا ہے کہ وہ راہول گاندھی کی بیرونی دورہ سے واپسی کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی پی سی سی کی صدارت پر ریونت ریڈی کو فائز کرنے کے حق میں ہیں۔
