جانا ریڈی کی ناگرجنا ساگر سے شکست تسلیم

   

سیاست سے سبکدوشی کا اعلان، منتخب امیدوار کو مبارکباد، سونیا گاندھی سے اظہار تشکر
حیدرـآباد۔ کانگریس کے سینئر قائد کے جانا ریڈی نے ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ میں شکست کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے اور عملی سیاست سے آرام لینے کا اعلان کیا۔ انتخابی نتیجہ کے اعلان کے بعد حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ عوامی فیصلہ کا احترام اور خیرمقدم کرتا ہوں۔ کامیابی حاصل کرنے والے ٹی آر ایس امیدوار کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صدر پردیش کانگریس، ورکنگ صدر اور کانگریس ٹیم نے میری کامیابی کے لئے مساعی کی ہے ، ایک نشست سے حکومت کی تشکیل ممکن نہیں تاہم جمہوریت اور عوام میں شعور بیداری کے لئے مقابلہ کیا۔ کانگریس ہائی کمان سونیا گاندھی کی ہدایت پر انتخابات میں حصہ لیا ہوں۔ سونیا گاندھی نے میری تجویز پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے اور میں نے جمہوری اصولوں کے احترام کے لئے ضمنی چناؤ میں حصہ لیا۔ جانا ریڈی نے کہا کہ ناگر جنا ساگر میں سرکاری مشنری کے متحرک اور سرگرم ہونے کے باوجود کانگریس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ الیکشن میں کانگریس کا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ آزادانہ چناؤ ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمر کا لحاظ کرتے ہوئے کچھ عرصہ کے لئے آرام کا ارادہ رکھتا ہوں، اس عمر کے بعد عملی سیاست میں سرگرم رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جانا ریڈی نے ناگرجنا ساگر کی ترقی کو نظرانداز کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کچھ عرصہ بعد عوام حقائق تسلیم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں جانا ریڈی نے کہاکہ دوبارہ الیکشن لڑنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور میری عمر 75 سال ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردیش کانگریس کے صدر کے بارے میں ہائی کمان بہتر فیصلہ کرے گا۔ کورونا صورتحال میں کمی کے بعد ناگر جنا ساگر عوام سے ملاقات کروں گا۔ کامیابی اور شکست سیاست میں معمول کی بات ہے لہذا کسی کو دل شکستہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔