ٹوکیو : 22اگست ( ایجنسیز ) جاپان کے ایک شہر نے تجویز دی ہے کہ تمام سمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد کام یا سکول کے اوقات کے علاوہ روزانہ صرف دو گھنٹے تک موبائل فون استعمال کریں گے۔ اس مجوزہ ضابطے میں کسی قسم کی پابندی یا جرمانہ شامل نہیں ہو گا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پابندی وسطی جاپان کے شہر تویواکے میں نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مسودہ کے مطابق اگرچہ وقت کی حد سے زیادہ استعمال کرنے پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی، اس اقدام کا مقصد شہریوں کو جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل مثلاً نیند کی خرابی سے بچانا ہے۔میئر ماسا فومی کوکی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ’ڈیوائسز کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کی روک تھام‘ کے لیے ہے۔ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ پرائمری کے طلبہ رات 9 بجے کے بعد سمارٹ فون استعمال نہ کریں، جبکہ جونیئر ہائی سکول اور اس سے بڑے طلبہ کے لیے یہ وقت 10 بجے مقرر کیا گیا ہے۔اس اعلان کے بعد جاپان میں سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور بہت سے صارفین نے اسے غیر حقیقی قرار دیا۔ایک صارف نے لکھا ’میں ان کے مقصد کو سمجھتا ہوں، لیکن دو گھنٹے کی حد ناممکن ہے۔‘ دوسرے نے کہا ’دو گھنٹوں میں تو نہ میں کوئی کتاب پڑھ سکتا ہوں اور نہ ہی فلم دیکھ سکتا ہوں۔‘کچھ افراد کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون کے استعمال کا فیصلہ خاندانوں کو خود کرنا چاہیے۔اس تنقید کے بعد میئر نے وضاحت کی کہ یہ ضابطہ لازمی نہیں ہے بلکہ یہ ہدایات صرف ا سمارٹ فون کے مفید کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تجویز کی گئی ہیں۔یہ مسودہ آئندہ ہفتہ زیرِغور آئے گا اور اگر منظورکر لیا گیا تو اکتوبر میں نافذ ہوگا۔