ٹوکیو۔ جاپان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے معاملات میں اضافے کی وجہ سے پچھلے چند ہفتوں سے ٹوکیو میں اولمپکس کے انعقاد کے بارے میں خدشات بڑھتے نظر آرہے ہیں۔جاپان نے اولمپکس کی افتتاحی تقریب سے 200 دن قبل ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا تھا جس کے باوجود ٹوکیو اولمپکس کے منتظمین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی ہونے والے کھیل اب بھی منعقد ہوں گے۔ میڈیاکے مطابق وزیراعظم یو شیہدا سوگا نے ملک میں بڑھتے ہوئے انفکیشن سے مقابلہ کرنے کے لئے ٹوکیو کے تمام علاقوں میں ایک ماہ کے لئے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ایک اور بیان میں اولمپکس منتظمین نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کی صورتحال پر قابو پانے کے کے لئے لگائی گئی ایمرجنسی اور کھیلوں کو محفوظ بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔سوگا نے کہا کہ جاپان ایک محفوظ اولمپکس کروانے کے لیے پرعزم ہے۔بین الااقومی اولمپکس کمیٹی آئی او سی میں طویل عرصے تک خدمات سر انجام دینے والے رکن ڈک پاونڈ نے اسکائی نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کھیلوں میں بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں کی شرکت کے ساتھ اب بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہے جب کھلاڑیوں کو ویکسین لگوائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر یہ ہرملک کا اپنا فیصلہ ہے اور اکثر لوگ یہ بھی کہیں گے کہ سب ایک دوسرے کی طرح قطار میں یہ کرنے کے کوشش کر رہے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنے کا یہی حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔نومبر میں اپنے ٹوکیو کے دورے کے دورا آئی اوسی کے صدر تھامس باک نے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کی ویکسین لگوانے پر حوصلہ افزائی کی جائے گی تاہم یہ ان کی شرکت کے لیے لازمی نہیں ہوگا۔