جاپان کے اوساکا چیمبرس آف کامرس کو ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی

   

ورلڈ ایکسپو میں نامور اداروں کے سربراہوں سے ملاقات، فیوچر سٹی، میٹرو ریل، موسی ریور پراجکٹس کا تذکرہ، ایکسپو میں شرکت کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست
حیدرآباد 21 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اوساکا چیمبرس آف کامرس کے سربراہوں کو تلنگانہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اُن شعبہ جات کی نشاندہی کی جن میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ جاپان کے شہر اوساکا میں تجارتی اداروں سے متعلق ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے شہری انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، موسی ریور پراجکٹ کے علاوہ ریجنل رنگ روڈ، ریڈئیل روڈس، فیوچر سٹی اور حیدرآباد میٹرو ریل توسیعی منصوبہ جیسے پراجکٹس میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ سافٹ ویر، آرٹیفیشل انٹلی جنس، فارما، بلک ڈرگس، سیاحت، ٹکسٹائیل، زراعت اور گرین انرجی جیسے شعبہ جات میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی میں اہم رول ادا کیا جاسکتا ہے۔ اوساکا بزنس ورلڈ سے تعلق رکھنے والے نامور صنعتی ادارے اور اُن کے سربراہ ایکسپو میں شریک تھے۔ چیف منسٹر نے جاپانی زبان میں صنعت کاروں کا استقبال کیا اور کہاکہ اوساکا شہر کو تلنگانہ سے مربوط کرنے کے لئے بہتر مواقع موجود ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ ہندوستان کی واحد ریاست ہے جو اوساکا ایکسپو میں شرکت کرتے ہوئے عظیم ملک کی نمائندگی کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ جاپان کے ساتھ تاریخی دوستانہ تعلقات کو طویل مدتی پارٹنرشپ میں تبدیل کرنا دورہ کا اہم مقصد ہے۔ اُنھوں نے جاپانی اداروں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کے پراجکٹس میں سرمایہ کاری کے ذریعہ مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون کو مستحکم کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں بزنس فرینڈلی ماحول کے ساتھ ساتھ عالمی معیار کی انفراسٹرکچر سہولتیں موجود ہیں۔ اُنھوں نے صنعت کاروں سے کہاکہ آپ حیدرآباد تشریف لایئے اور اپنے پراڈکٹس کی تیاری اور مینوفیکچرنگ کا کام انجام دیجئے۔ ہندوستانی مارکٹ میں جاپانی اشیاء کی بہتر مانگ ہے۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے سرمایہ کاروں کو سہولتوں اور مراعات کی منظوری کے لئے سنگل ونڈو سسٹم متعارف کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لائف سائنسیس کے ہب میں تبدیل ہورہا ہے۔ ایرو اسپیس، ڈیفنس، الیکٹرانکس اور ٹکسٹائیلس کے شعبہ جات میں کئی عالمی اداروں نے سرمایہ کاری سے اتفاق کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ویژن کے مطابق فیوچر سٹی، نیٹ زیرو سٹی کا 30 ہزار ایکر اراضی پر قیام عمل میں آئے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ کلین اینڈ گرین انرجی کے لئے فیوچر سٹی تعمیر کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ انڈسٹریل پارک کے قیام کے لئے جاپانی کمپنی ماروبینی کارپوریشن سے اشتراک کیا گیا ہے۔ سریدھر بابو نے 370 کیلو میٹر طویل ریجنل رنگ روڈ اور ریڈئیل روڈس کا حوالہ دیا اور جنھیں مختلف علاقوں سے مربوط کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ زون میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ اور ریڈئیل روڈس کا علاقہ انرجی اسٹوریج، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرس اور ایرو اسپیس انڈسٹریز کے لئے سازگار ہے۔ سریدھر بابو نے جاپان کے ٹوکیو اور اوساکا شہروں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ حکومت دونوں شہروں سے متاثر ہوکر موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے ذریعہ موسیٰ ندی کی بحالی کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ اسپیشل چیف سکریٹری انڈسٹریز جیش رنجن آئی اے ایس نے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے قیام کا ذکر کیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جاپانی صنعتکاروں سے انفرادی ملاقات کی اور باہمی اشتراک کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اوساکا اور تلنگانہ کے درمیان دوررس نتائج کے حامل تجارتی اور ثقافتی روابط استوار ہوں گے۔ مختلف جاپانی کمپنیوں کے ساتھ تلنگانہ وفد کی انفرادی ملاقاتیں ہوئیں۔ جاپان کے صنعتکاروں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی اور حکومت کی جانب سے دی جارہی انفراسٹرکچر سہولتوں کو سراہا۔ اوساکا ورلڈ ایکسپو میں ہندوستان سے شرکت کرنے والی تلنگانہ واحد ریاست بن چکی ہے۔1