رقمی معاملت کیلئے بات چیت ناکام ہونے پر فائرنگ کی گئی ۔ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) رچہ کنڈہ گھٹکیسرمیں کل رات گاورکھشک پر فائرنگ کے تین ملزمین کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ بی پرشانت عرف سونو سنگھ ساکن عطاپور راجندر نگر بڑے جانوروں کے تاجرین سے جبراً وصولی کررہا تھا پولیس کمشنر رچہ کنڈہ سدھیر بابو نے میڈیا کو بتایا کہ 22 اکٹوبر کی شب پرشانت کمار عرف سونو سنگھ پر محمد ابراہیم قریشی ساکن بنڈلہ گوڑہ اور تین ساتھی محمد حنیف قریشی ساکن راجندر نگر، کے سرینواس ساکن شاہ آباد اور حسن بن محسن ساکن کالاپتھر مکہ کالونی میں بڑے جانوروں کے کاروبار کیلئے رقمی لین دین طئے کرنے بات چیت ہوئی ۔ عدم اتفاق پر فائرنگ ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ محمد ابراہیم قریشی کی جو بڑے جانوروں کا تاجر ہے سونو سنگھ کی پولیس میں شکایت پر گاڑیاں ضبط کی جارہی تھی ۔ پولیس کارروائی سے اسے ایک کروڑ کا نقصان ہوا تھا اور سونو سنگھ ابراہیم سے 5 لاکھ روپئے کا مطالبہ کررہا تھا اور ادا نہ کرنے پر کاروبار کو بند کرانے کی دھمکی دی تھی۔ سونو نے ابراہیم کے ساتھی کے سرینواس کی مدد سے معاملہ کرنے طلب کیا۔ یہاں پر گاورکھشکوں کی ٹیم اور ابراہیم اور ساتھیوں میں 5 لاکھ کی رقم کے مسئلہ پر لفظی جھڑپ ہوئی اس کے بعد ابراہیم قریشی نے سونوسنگھ پر گولی چلائی جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ ابراہیم نے گاورکھشک پر حملہ کیلئے دیسی ساختہ طپنچہ کا استعمال کیا اور حملہ کے بعد فرار ہوگیا۔ کمشنر نے بتایا کہ ابراہیم کے خلاف بڑے جانوروں کی منتقلی سے متعلق 5 مقدمات تھے اور ایک مقدمہ کاماٹی پورہ پولیس میں بھی درج کیا گیا تھا۔ سدھیر بابو نے کہا کہ حملہ آور اور زخمی نوجوان کئی برس سے بڑے جانوروں کے کاروبار کیلئے رقمی لین دین جاری تھی ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس اس کیس کی تحقیقات کررہی ہے تاکہ حقائق کا پتہ لگایا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ محمد ابراہیم قریشی نے چھتیس گڑھ کے ایک شخص سے دیسی ساختہ طپنچہ حاصل کیا جس کا حملہ میں استعمال کیا۔ پولیس اس کیس کی ہر زاویہ سے تحقیقات کررہی ہے۔ کل رات سونو کی کارپوریٹ دواخانہ میں سرجری کی گئی اور گولی نکالی گئی ۔ اس کی حالت مستحکم ہے۔ ب