جب امریکہ میں ڈبل روٹی کے سلائس پر پابندی لگی تھی

   

نیویارک : ڈبل روٹی کا سلائس ہمارے لیے ناشتے یا لنچ میں کھانے کی ایک معمول کی چیز ہے۔ لیکن امریکہ میں جب پہلی بار سلائس کی ہوئی ڈبل روٹی بازار میں فروخت کے لیے آئی تھی تو اس نے خریداروں کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس پر لگنے والی اچانک پابندی نے بھی انہیں حیرت زدہ کر دیا تھا۔ 1928 سے قبل بیکری سے تیار ہونے والی ڈبل روٹی ثابت ہی فروخت ہوتی تھی اور اس کے استعمال کے لیے خریداروں کو اس کے سلائس خود کاٹنا پڑتے تھے۔ امریکن سوسائٹی آف بیکنگ کے مطابق اوٹو روہویڈر نے سب سے پہلے اس مشکل کا ادراک کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سنار تھے اور ساتھ ہی نت نئی ایجادات میں دلچسپی رکھتے تھے۔انہوں نے اس مشکل کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا اور 1912 میں بیکری میں تیار ہونے والی ڈبل روٹی کے سلائس کرنے کی مشین بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ اوٹو روہویڈیر کا زیورات کا کاروبار خوب چل رہا تھا لیکن ان کے سر پر ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی آٹو میٹک مشین ایجاد کرنے کا جنون سوار ہو چکا تھا۔انہوں نے اس کام کے لیے علیحدہ ایک ورکشاپ تیار کرنے کے لیے اپنا زیورات کا اسٹور بیچ دیا لیکن 1917 میں آتشزدگی کے واقعہ میں ان کی ساری محنت ضائع ہو گئی لیکن روہویڈر نے ہمت نہ ہاری اور سلائسنگ مشین پر کام جاری رکھا۔ بالآخر 1928 میں ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور وہ ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی آٹو میٹیک مشین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
روہویڈر سے یہ مشین ریاست میزوری کی ایک بیکنگ کمپنی کے مالک نے خریدی اور 7 جولائی 1928 کو پہلی بار سلائس کی گئی ڈبل روٹی فروخت کے لیے پیش کی گئی۔
ایرون بیبرون اسٹرین کی کتاب ’’وائٹ بریڈ: اے سوشل ہسٹری آف دی اسٹور بوٹ لوف‘‘ کے مطابق ڈبل روٹی فروخت کرنے والے بیکرز نے بھی سلائس کی گئی ڈبل روٹی کی خوب تشہیر کی اور اسے ’بینکنگ کی صنعت کے لیے ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا۔سن 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ کے صدر فرینکلن روز ویلٹ نے جنگ کے دنوں میں انتظامی حکم نامے کے ذریعے آفس آف پرائس ایڈمنسٹریشن قائم کیا تھا۔امریکہ جریدے ’ٹائم‘ کے مطابق حکام اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ سلائسنگ مشین کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے اسٹیل کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے جنگ میں سینکڑوں ٹن اسٹیل کی بچت کے لیے بھی یہ پابندی لگائی گئی تھی۔