جب اہلیان کشمیر اخبار پڑھنے کیلئے بے تاب نظر آئے

   

سرینگر، 28 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ شب ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے خطابات کے متن کو پڑھنے کے اشتیاق نے وادی کشمیر میں لوگوں کو ناشتے کے بجائے اخبار خریدنے پر ترجیح دینے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں ہفتے کی صبح نو بجے تک تمام اسٹالوں پر اخبار ختم ہوگئے تھے ۔ شہر سری نگر کے علاوہ قصبہ جات میں بھی لوگوں کو دکانوں کے تھڑوں، برلب سڑک چھوٹی پارکوں بلکہ سڑکوں پر بھی اخبار بینی میں غرق دیکھا گیا اور جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کے تئیں تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے بھی سنا گیا۔ ہر دس افراد میں سے نو کے ہاتھوں میں اردو اخبار دیکھے گئے کیونکہ بیشتر اردو اخبارات نے دونوں وزرائے اعظم کے خطابات کے متن کو تفصیل کے ساتھ شائع کیا تھا۔ بتادیں کہ گزشتہ شب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے بعد وادی کے درجنوں علاقوں میں لوگوں نے جوش میں آکر آتشبازی کی اور مساجد و خانقاہوں میں لاؤڈ اسپیکروں پر ترانے بھی پڑھے گئے ۔