جب برطانیہ نے نظام پر غلامی کے دستور پر چشم پوشی کا الزام عائد کیا تھا

   

حیدرآباد :۔ جس وقت امریکہ اور دیگر ممالک میں سیاہ تاریخ کا ماہ منایا جاتا ہے ، آرکائیول ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ نے انیسویں صدی کے آواخر میں حیدرآباد کے نظام پر اس شاہی ریاست میں سنگدلی یا غلامی کی اجازت دینے اور اس سلسلہ میں سرد مہری اختیار کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ امریکہ اور کینڈا میں ہر سال یکم فروری تا یکم مارچ سیاہ تاریخ کا ماہ منایا جاتا ہے جس میں سیاہ فارم لوگوں کی خدمات کو تسلیم کیا جاتا ہے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں اہمیت دی جاتی ہے ۔ حیدرآباد میں اس وقت کے برٹش ریزیڈنٹ چارلس بی سانڈرس اور سکریٹری ( خارجہ امور ) حکومت ہند کے درمیان 1870 میں ہوئی مراسلت اور ریاست حیدرآباد کے وزیراعظم سالار جنگ اور ریزیڈنٹ کے درمیان ہوئی مراسلت سے متعلق نیشنل آرکائیوز آف انڈیا

(NAI)

کے پاس دستاویزات سے شاہی ریاست حیدرآباد میں مبینہ غلامی کے نظام پر بعض دلچسپ ایکسینجس کا انکشاف ہوتا ہے ۔ یہ مراسلت سالار جنگ نے کی تھی کیوں کہ اس وقت نظام ششم میر محبوب علی خان کی عمر صرف چار سال تھی ۔ 13 نومبر 1870 کو سالار جنگ نے ریزیڈنٹ کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربوں کے ساتھ ، جب وہ عربیہ سے حیدرآباد آتے ہیں تو ، کچھ آفریقہ کے لوگ آتے ہیں ۔ لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ آیا وہ غلاموں کی حالت میں آتے ہیں آزاد لوگوں کی طرح ، کیوں کہ حیدرآباد آنے کے بعد جلد ہی وہ دیگر ماسٹرس کی خدمت میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ لہذا میں اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ غلامی کے حقوق کا ان پر عمل نہیں ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے نظم و نسق سنبھالا ہے ، سوائے ایک یا دو واقعات کے میں نے آفریقی اشخاص پر ظلم و ستم کئے جانے کی کوئی شکایت یا غلامی سے متعلق کوئی شکایت نہیں سنی ہے ‘ ۔ 30 نومبر 1870 کو چارلس سانڈرس اور سکریٹری ( خارجہ امور ) کے درمیان ہوئی مراسلت سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ای جی بالفور ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف ہاسپٹلس تھے جنہوں نے حیدرآباد میں مبینہ غلامی کے بارے میں حکومت برطانیہ سے شکایت کی تھی ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف ہاسپٹلس ای جی بالفور ، جب وہ یہ کہتے ہیں تو شائد پوری طرح سے غلط بیانی نہیں کرتے ہیں کہ ہر عرب جو اپنی قسمت آزمائی کے لیے حیدرآباد آتا ہے یا عربیہ جاکر حیدرآباد واپس ہوتا ہے تو اپنے ساتھ ایک یا دو حبشی غلاموں کو لے آتا ہے ‘ ۔۔