جب تک جموں و کشمیر یونین ٹریٹری ہے تب تک

,

   

Ferty9 Clinic

انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا:عمر عبداللہ

سرینگر۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کو عوام کی توہین سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘جب تک جموں و کشمیر مرکز کے زیرانتظام علاقہ رہے گا وہ اس وقت تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے‘‘’۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے جس کے اختیارات چھین لئے گئے ہوں۔عمر عبداللہنے ان باتوں کا اظہار انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس ‘‘میں شائع اپنے ایک مضمون میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی ایک بار اختیار اسمبلی کا 6 برسوں تک ایک لیڈر کی حیثیت سے حصہ رہ چکے ہیں ، لہٰذا وہ اب ایک ایسے ایوان کا رکن نہیں بن سکتے جس کے اختیارات چھین لئے گئے ہوں’۔مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019ء کو جموں وکشمیر کے آئینی دفعات 370 و 35A کی تنسیخ اور اس کے دو وفاقی حصوں میں تقسیم کے فیصلوں کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ریاست عوام کیلئے ایک سزا اور توہین تھی’۔انہوں نے کہا کہ اگر لداخ کو یونین ٹریٹری بنانا وہاں کی بودھ آبادی کا مطالبہ تھا تو جموں کے لوگوں کی بھی جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینا ایک دیرینہ مانگ تھی اور اگر اس مطالبے کو مذہبی بنیادوں پر تسلیم کیا گیا ہے تو یہاں یہ بات فراموش کی جارہی ہے کہ لداخ یونین ٹریٹری جو لیہہ اور کارگل اضلاع پر مشتمل ہے ، اس میں مسلم اکثریت جموں وکشمیر سے جدا ہونے کے خلاف ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کی طرف مذکورہ دفعات کو ختم کرنے کیلئے پیش کردہ جواز کو مسترد کردیا ، اور یہ الزام عائد کیا گیا کہ دفعہ 370 علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کا موجب ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندی کا باعث ہے اور اس کے خاتمے کو عسکریت پسندی کے خاتمے سے تعبیر کیا گیا، اگر ایسا ہی ہے تو پھر آج قریب ایک سال بعد یہی حکومت عدالت عظمیٰ میں یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوئی ہے کہ جموں وکشمیر میں تشدد بڑھ رہا ہے ؟