جب تک زندہ ہوں ،بنگال میں سی اے اے نہیں

   

Ferty9 Clinic

کولکاتا27دسمبر(سیاست ڈاٹ کام ) وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے آج ایک بار اس عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اس وقت تک شہری ترمیمی ایکٹ کو نافذ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے گا۔وزیرا علیٰ ممتا بنرجی ملک بھر میں جاری طلباء تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی اس سے محروم نہیں کرسکتا ہے ۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ جب ہم کسی کو منتخب کرسکتے ہیں تو ہمیں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی حق ہے ۔خیال رہے کہ شہری ترمیمی ایکٹ بننے کے بعد سے ہی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی تحریک چلارہی ہیں اور اب تک کلکتہ شہر میں پانچ مختلف علاقوں سے جلوس نکال چکی ہے ۔کل وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ جب تک اس قانون کو واپس نہیں لے لیا جاتا ہے اس وقت تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ بنگال میں ایک بھی حراستی کیمپ نہیں ہے۔ وزیرا علی نے سوال کیا کہ آخر طلباء احتجاج کیوں نہیں کرسکتے ہیں۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ مرکزی حکومت کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کو خوف زدہ کررہی ہیں۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو خاموش کرانا ہے ۔مگر میں کہنا چاہتی ہوں کہ طلباء کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں۔واضح رہے کہ ممتا بنرجی ملک کی پہلی چیف منسٹر ہیں جو مرکز کی جانب سے عوام پر مسلط کی جارہی این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کی قیادت کررہی ہیں۔ بنگال میں بی جے پی کی سب سے بڑی ناقد کی حیثیت سے مشہور ممتا بنرجی نے اِس سے پہلے بھی ایک بہت بڑے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی حال مغربی بنگال میں نہ ہی شہریت ترمیمی قانون، نہ این آر سی اور نا ہی این پی آر نافذ ہونے دیں گی۔ اُنھوں نے نہ صرف دعویٰ کیا بلکہ عملی طور پر وہ پہلی چیف منسٹر نے جس نے بنگال میں این پی آر کے عمل پر پابندی عائد کرچکی ہیں۔