کولکاتہ:مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج گورنر سی وی آنند بوس پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب ان کے خلاف ایک خاتون نے چھیڑ خوانی کے الزامات عائد کئے ہیں تو انہوں نے اخلاقی طور پر استعفیٰ کیوں نہیں دیا۔ترنمول کانگریس کی ہگلی امیدوار رچنا بنرجی کی حمایت میں انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجیٰ نے کہا کہ جب تک بوس گورنر رہیں گے وہ راج بھون کے اندر قدم نہیں رکھیں گی۔ممتا بنرجی نے کہا کہ گورنر کہتے ہیںکہ وہ دیدی گیری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔مگر میں کہتی ہوں کہ بنگال میں آپ کی دادا گیری کام نہیں آئے گی ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ گورنر اگر حق پر تھے تو وہ پہلے وہ اخلاقی طور پر استعفیٰ دیتے اور آزادانہ جانچ میں تعاون کرتے اور اگر وہ بے قصور ہیں تو پھر انہیں اس عہدہ پر واپس بلایا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ بوس کو یہ بتانا چاہیے کہ ان پر ایسے الزامات عائد کیے جانے کے بعد انہیں استعفیٰ کیوں نہیں دینا چاہیے ۔راج بھون میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والی خاتون ملازم نے گزشتہ ہفتے کلکتہ پولیس میں شکایت درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بوس نے 24 اپریل اور 2 مئی کو گورنر ہاؤس میں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔بوس نے 9 مئی کو راج بھون کے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کی اسکریننگ کی تھی تاکہ ان کے خلاف لگائے گئے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو صاف کیا جا سکے ۔