جب ہم شہری ہی نہیں تو واپس جانے کی اجازت کیوں نہیں

   


سابق جنگجوؤں کی پاکستانی بیویوں کا مطالبہ

سری نگر: سنہ 2010 میں اعلان شدہ سابق جنگجوؤں کی باز آباد کاری پالیسی کے تحت اپنے شوہروں کے ساتھ وادی وارد ہوئی پاکستانی خواتین نے کشمیر کو ایک غیر محفوظ جگہ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر انہیں وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی سفارتخانہ ہر ماہ وزارت امور خارجہ سے ہمارے میکے جانے کے لئے اجازت طلب کرتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت سے ایک ہی اپیل ہے کہ ہمیں اپنے میکے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم وہاں اپنے احباب و اقارب سے مل سکیں۔ان خواتین نے یہ باتیں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔انہوں نے کہا: ‘پاکستانی سفارتخانہ لگ بھگ ہر ماہ وزارت امور خارجہ سے ہمارے میکے جانے کے متعلق اجازت طلب کرتا ہے ۔ ہماری حکومت سے ایک ہی اپیل ہے کہ ہمیں اپنے میکے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اپنے احباب و اقارب سے مل سکیں’۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بحثیت شہری ہمیں مسترد کیا ہے لہذا اب ہمیں اپنے میکے واپس جانے کے لئے کیونکر روکا جا رہا ہے ۔مذکورہ خواتین نے کہا کہ ہم نے ہر دروازے پر دستک دی لیکن کوئی ہماری بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے تمام متعلقہ دروازوں کو کٹھکٹھایا لیکن کوئی ہماری بات نہیں سنتا ہے ۔ جب ہم میں سے ثومیہ صدف ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن جب ہم نے آواز بلند کی تو حکومت نے اس نشست پر ووٹوں کی گنتی کا عمل بند کردیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس وقت گہری نیند میں تھی جب کئی پاکستانی خواتین سرپنچ اور پنچ بن گئیں۔بشرا نامی خاتون نے اس موقع پر کہا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں اور جب ہمیں یہاں شہری کا درجہ ہی نہیں دیا جا رہا تو ہمیں اپنے میکے واپس بھیج دیا جائے ۔پریس کانفرنس کے دوران موجود دیگر خواتین نے بھی اپنے مسائل و مشکلات ظاہر کئے ۔قابل ذکر ہے کہ سال 2010 میں عمرعبداللہ کے دور حکومت میں جنگجوؤں کی بازآباد کاری پالیسی کے تحت قریب ساڑھے چار سو کشمیری جواسلحہ تربیت کے لئے سرحد پار کر گئے تھے ، اپنی بیویوں کے ساتھ واپس وادی کشمیر آئے ۔