جدہ میں یوکرین امن فارمولے پر عالمی مذاکرات کا اختتام

,

   

اعلامیہ جاری،اقوام متحدہ سمیت 40 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی شرکت

جدہ: سعودی عرب کی سربراہی میں جدہ میں منعقدہ یوکرین امن فارمولے پر عالمی مذاکرات کامیابی کے ساتھ ختم ہوگئے جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس مذاکرے نے امن کی مشترکہ بنیاد فراہم کردی۔سعودی میڈیا کے مطابق یوکرین امن فارمولے پر ہونے والے عالمی مذاکرات میں اقوام متحدہ سمیت 40 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔تین روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے روس اور یوکرین جنگ کے حل کے لیے مشاورت جاری رکھنے اور مجوزہ آراء سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرکاء سمیت عالمی قوتوں نے بھی سعودی عرب کی اس کاوش کو سراہا ہے اور اجلاس میں پیش کی گئیں تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔جدہ میں منعقدہ عالمی مذاکرات میں اقوام متحدہ، یورپی کمیشن اور کونسل آف یورپ کے نمائندوں سمیت امریکہ، برطانیہ، جرمنی، ہندوستان، فرانس، چین، جاپان اور دیگر ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ادھر چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یوکرین کے بحران کے حل پر سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ بین الاقوامی مذاکرات سے بین الاقوامی اتفاق رائے کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔یوکرین نے بھی سعودی عرب کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا میں استحکام کیلئے روس کی یوکرین پر مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔روس کی جانب سے سعودی عرب میں ہونے والے امن فارمولہ مذاکرات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یوکرین نے جدہ مذاکرات میں دس نکاتی امن فارمولا پیش کر دیا ہے۔میڈیا کے مطابق جدہ اجلاس کی صدارت سعودی وزیر مملکت و رکن کابینہ و مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر مساعد العیبان نے کی۔ اجلاس میں افکار و خیالات کے تبادلے اور بین الاقوامی مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا تاکہ امن کی راہ ہموار کرنے والی مشترکہ بنیادوں کی تشکیل ہوسکے۔شرکا نے اجلاس میں زیربحث آنے والی مثبت تجاویز سے استفادہ کی اہمیت سے بھی اتفاق کیا ہے۔ شرکا نے اجلاس کے انعقاد اور میزبانی پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ جدہ اجلاس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ان خیر سگالی کوششوں کی کڑی ہے جس کا آغاز انہوں نے مارچ 2022 میں کیا تھا۔
سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چلی، چین، جزائر قمر، چیک، ڈنمارک، مصر، ایسٹونیا، یورپی کمشنری، یورپی کونسل، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، اردن، کویت، لٹویا، لتھوانیا، ہالینڈ، ناروے، پولینڈ ، قطر، کوریا، رومانیہ، سلواکیہ، جنوبی افریقہ، سپین، سویڈن، ترکیہ، یوکرین، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، اقوام متحدہ اور امریکہ نے شرکت کی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں یوکرین بحران کے پرامن حل تک رسائی کے لیے ہونے والے مذاکرات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ امن کے قیام کی جہت میں معمولی سی پیشرفت بھی یوکرینی عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ یوکرین کے صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پائیدار اور مبنی برانصاف امن کے حوالے سے بنیادی اصولوں پر انتہائی مفید مشاورت ہوئی۔ تمام ممالک کے نمائندوں نے اپنی رائے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔ جدہ اجلاس میں چالیس سے زیادہ ممالک شریک ہوئے اور یہ کوپن ہیگن میں ہونے والی مشاورت میں شریک نمائندوں سے تین گنا زیادہ تعداد ہے۔ یہ اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ پوری دنیا پائیدار اور منصفانہ امن کے قیام میں غیرمعمولی دلچسپی لے رہی ہے۔ یوکرینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’جدہ اجلاس یوکرین کے مجوزہ امن فارمولے پر عمل درآمد کی جہت میں ایک قدم ہے‘۔