جدہ : دنیا کے کسی بھی ملک نے اتنی زیادہ تعداد میں فلک بوس عمارتوں کو نہیں اپنایا جس طرح چین نے ان تعمیرات میں حصہ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے اب دنیا کی فلک بوس عمارتوں کو دیکھیں تو ان میں سے نصف کے قریب چین میں موجود ہیں۔ اس طرح چین بلند عمارتوں اور تعمیراتی عجائب میں سر فہرست ہے۔کونسل آف ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبی ٹیٹ (CTBUH) کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 25 سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے 12 شہر چین میں ہیں۔ ان بارہ شہروں میں سب سے زیادہ فلک بوس عمارتیں موجود ہیں۔اس اعداد و شمار کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھیں تو چین کے پاس اس فہرست میں باقی دنیا کے مقابلے سب سے زیادہ فلک بوس عمارتیں ہیں۔سعودی عرب میں تعمیر ہونے والا جدہ ٹاور برج خلیفہ کو دنیا کی بلند ترین عمارت کے طور پر پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح کوالالمپور میں “مردیکا 118” عمارت ہے جو دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ عمارت جون 2023 میں کھل جائے گی۔