جدید بلدی قانون پر دستخط سے ای ایس ایل نرسمہن کا انکار

,

   

Ferty9 Clinic

گورنر اور حکومت میں ٹھن گئی
بل میں بعض ترامیم کی سفارش ، مذکورہ قانون کے نفاذ کیلئے حکومت کی جانب سے آرڈیننس کی اجرائی

حیدرآباد۔23جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں گورنر اور حکومت کے درمیان ٹھن گئی۔گورنر تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں منظورہ بلدی قانون کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے اس پر دستخط نہ کرتے ہوئے بل کو معرض التواء رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت نے گورنر کے اس فیصلہ کے خلاف فوری آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مذکورہ قانون کے نفاذ کو برقرار رکھنے کے اقدامات کئے ۔بتایاجاتا ہے کہ گورنر تلنگانہ کی جانب سے مذکورہ قانون کو منظوری دینے کے انکار کرتے ہوئے اس میں بعض ترامیم کی سفارش کی گئی ہے اور ان ترامیم کے ساتھ بل کو منظوری دینے کا مشورہ دیا گیا لیکن ساتھ ہی بل کو زیر التواء رکھنے کا بھی فیصلہ سے گورنر نے حکومت کو واقف کروادیا ۔ گورنر کی جانب سے نئے بلدی قوانین کو منظوری نہ دیئے جانے اور اس کے بعض حصوں میں ترمیم کی سفارشات اور ان کو غیر دستوری قرار دیئے جانے پر حکومت نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ اس قانون کی برقراری کیلئے آرڈیننس کی اجرائی کا سہارا لیتے ہوئے اسے برقرار رکھا گیا ہے لیکن باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ حکومت نے گورنرکی جانب سے کی گئی سفارشات کے مطابق ترامیم کے ساتھ آرڈیننس جاری کیا ہے

جبکہ قانون میں اس بات کی گنجائش موجود نہیں ہے بلکہ گورنر کی جانب سے ترامیم کی سفارش کے بعد بل کو ترمیم کے ساتھ دوبارہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔حکومت کی جانب سے نئے بلدی قوانین کی منظوری پر شدید اعتراض کرتے ہوئے ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وفدنے گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایوان میں منظور کئے گئے بل کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے اس میں ترمیم کی سفارش کی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وفد نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے منظور کئے جانے والے نئے بلدی قوانین میں دفعہ 73اور74 کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے گورنر سے مداخلت کی خواہش کی تھی ۔ بی جے پی قائدین نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت تلنگانہ اس بل کے ذریعہ ریاستی الیکشن کمیشن کے اختیار ات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ بل میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے عمل کو حکومت کی نگرانی میں قرار دینے کی کوشش کی گئی جو کہ دستور کے مغائر ہے۔ گورنر تلنگانہ کی جانب سے حکومت تلنگانہ کی جانب سے منظور کئے گئے بل کو منظوری نہ دیتے ہوئے اس میں ترامیم کی سفارش کے بعد حکومت کی جانب سے آرڈیننس کی اجرائی کو گورنر تلنگانہ اور حکومت کے درمیان تعلقات کے بحران سے تعبیر کیا جا رہاہے جبکہ گورنر کا اقدام دستور کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس قانون کی برقراری کو ممکن بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔