جدید ٹیکنالوجی کے باوجود سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے کی روایت برقرار

   

Ferty9 Clinic

سری نگر: وادی کشمیر میں ماہ رمضان المبارک کی پہلی سحری کے وقت بستیوں میں ڈھول بجنے کی گونج سنائی دیتی ہے جس کا سلسلہ آخری سحری تک تواتر کے ساتھ جاری رہتا ہے ۔ وادی کے شہر و دیہات میں سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لئے ڈھول بجایا جاتا ہے اور ڈھول بجانے والے کو ‘سحر خوان’ کہا جاتا ہے جو رات کے سناٹے اور گھپ اندھیرے میں جان بکف اپنے مقررہ علاقے میں گلی گلی گھومتے ہوئے ڈھول بجا کر اور ’وقت سحر‘ کی آوازیں دے کر لوگوں کو جگاتا ہے ۔ عصر حاضر میں جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے موبائل فون، لائوڈ اسپیکر، ڈیجیٹل الارم کی سہولیات کے باوجود بھی وادی میں ڈھول بجا کر لوگوں کو اٹھانے کی روایت نہ صرف برابر برقرار ہے بلکہ مذکورہ تمام ترسہولیات سے بہر ور ہونے کے باوجود بھی مسجد کمیٹیاں یا محلہ کمیٹیاں ’سحر خوانوں‘ کا بندوبست کرتی ہیں۔