صلح حدیبیہ کو ملحوظ رکھنا ہوگا ، مسلمانوں کیلئے آزمائش کا وقت: ظفر سرویش والا
ریاض ۔ 17 ۔ جون : ( کے این واصف ) : مسلمان جذباتی نعروں کی رو میں بہنے کی بجائے دانشمندی اور حکمت سے کام لین۔ ہمارے پاس کامیابی کا یہی راستہ ہے۔ یہ بات ممتاز بزنس مین، سماجی جہد کار اور سابق چانسلر‘‘مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی’’ظفر سریش والا نے کہی۔ وہ ریاض انڈین کمیونٹی کی جانب‘‘ہندوستانی مسلمانون کو درپیش چیلنج اور ان کا حل‘‘ کے عنوان سے منعقد سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ انھون نے کہا کہ ہماری خوش اخلاقی، کشادہ قلبی اور ہمارے عمل و سلوک مین دانشمندی ہمارے دشمن کا ذہن بدل سکتی ہے۔ سریش والا نے مزید کہا کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی اور اسوہ حسنہ ہمارے لئے ایک نمونہ اور بہترین مثال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ موقع اور حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ لینے کی مثال ہمارے پاس ’’صلح حدیبیہ ‘‘ ہے۔ سریش والا نے کہا کہ ہمیں اپنے اندر فکر نبی صلعم لانی چاہئیے۔ ظفر سریش والا نے مشورہ دیا ہمیں تلوار کی بجائے قلم اٹھانا چاہئیے۔ علم کی طاقت ہی ہمیں عزت کی زندگی بخشے گی۔ ہمارا محور فکر تعلیم حاصل کرنا معیشت کی بہتری ہونا چاہئے۔ سمینار کا آغاز شبیر ندوی کی قرائت کلام پاک سے ہوا۔ میزبان محفل اختر الاسلام صدیقی کے ابتدائی کلمات کے بعد مرشد کمال نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور سمینار کے اغراض و مقصد پر روشنی ڈالی۔ سینئر صحافی غضنفر علی خاں نے اپنے خطاب میں ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم و ستم، مذہبی امتیاز، ناانصافیوں، سوشیل میڈیا کے ذریعہ فرقہ واریت کو ہوا دینا، دھرم سند کے وغیرہ جیسی شرانگیزیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ظفر سریش والا سے ان مسائل کے حل تجویز کرنے کی گزارش کی۔ اہل خیر و معروف بزنس مین ڈاکٹر ندیم ترین نے اپنے مختصر خطاب میں مسلمانوں کو حصول علم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم کی طاقت کے ذریعہ ہمارے مخالفین کو شکست دینے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ معروف صحافی و عام آدمی پارٹی کی ترجمان مسز ھدی زری والا نے محفل سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے غیر مسلم ہم وطنوں سے تعلقات بڑھانے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری صفوں میں اتحاد بنیادی ضرورت ہے۔ ھدی نے بھی تعلیم کی ضرور ت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ علم کے شہر علیگڈھ کے اطراف بسے مسلمانوں میں غربت و جہالت اپنے عروج پر ہے۔
سمینار کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا تھا مگر یہ سیشن حاضرین کے رد عمل نے اس تجربہ کو ناکام بنادیا۔ ایک مقامی رسٹورنٹ کے ہال میں منعقد یہ سمینار ناظم محفل اختر الاسلام صدیقی کے اختتامی کلمات اور ہدیہ تشکر پر ختم ہو۔