نئی دہلی، 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے لئے جراثیمی ہتھیاروں کا استعمال اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے فورسز اور اس سے وابستہ میڈیکل ونگ کو تیار رہنا ہوگا۔ مسٹر سنگھ نے آج یہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کی پہلی ملٹری میڈیسن کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ،‘‘میں حیایتیاتی دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے صلاحیت کو بڑھانے کی اہمیت کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ جراثیمی دہشت گردی ایک حقیقی خطرہ ہے ۔ یہ ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے مسلح افواج اور طبی خدمات کو آگے بڑھ کر محاذ سنبھالنا ہوگا۔وزیر دفاع نے کہا کہ میدان جنگ سے وابستہ ٹیکنالوجی میں مسلسل تبدیلی آرہی ہے اور اس سے نئے چیلنجز پیدا ہورہے ہیں۔ نئی اور غیر روایتی جنگوں نے ان چیلنجوں کو مزید پیچیدہ کردیا ہے ۔ مسلح افواج کی طبی خدمات کو ان چیلنجوں سے نمٹنے اور ان کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے عملی تجویز پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی ، کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی وجہ سے صورتحال دن بدن پیچیدہ ہوتی جارہی ہے ۔ مسلح افواج کے طبی ماہرین شاید ان خطرناک چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سازوسامان سے آراستہ ہیں۔ زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کا بچاؤ ملٹری میڈیسن کا اہم پہلو ہے ۔ لڑائی کے دوران طبی سہولیات مہیا کرنے والی طبی خدمات کا فرض ہے کہ ، ان کے پاس زخمیوں کو جلد سے جلد ضروری مدد فراہم کرنے کے لئے واضح ، موثر اور آزمائشی طریقہ ہونا چاہئے ۔ یہ طریق کار اور تدبیریں مختلف فوجی کارروائیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اختیار کی جانی چاہیے ۔ قابل ذکر ہے کہ متعدی عناصر جیسے جراثیم ، وائرس یا فنگس جنھیں جراثیمی ہتھیار کہتے ہیں ، کا جنگ میں نسل کشی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔