جرح صرف مسلم فریق سے‘ ہندو سے کیوں نہیں ؟

   

متنازعہ مقام پر ’’مجوزہ ‘‘ داخلے اور پوجا کی اجازت کا مطلب حق ملکیت نہیں، ایودھیا مقدمہ میں وکیل صفائی راجیو دھون کے دلائل

نئی دہلی ۔ 14اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے اجلاس پر آج مسلم فریقین نے الزام عائد کیا کہ ایودھیا میں سیاسی طورپر حساس رام جنم بھومی۔ بابری مسجد اراضی ملکیت مقدمہ میں صرف اُن سے جرح کی گئی اور دیگر ہندو فریق سے کوئی سوالات نہیں کئے گئے۔ سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے یہ بات مسلم فریقین کی پیروی کرنے والے وکیل صفائی کی حیثیت سے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرصدارت 5 ججوں پر مشتمل دستوری بنچ پر بیان میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ دیگر فریق سے کوئی سوالات نہیں کئے گئے ۔ صرف ہم سے کئے گئے۔ بے شک ہم نے اُن سب کا جواب دیا ۔ آج اس مقدمہ کی اہم سماعت کے 36 ویں روز اس بیان کی پرزور مخالفت کی گئی ۔ رام للا کی مورتی سے متعلق کیس کی نمائندگی کرنے و الے سینئر ایڈوکیٹ سی ایس ویدیا ناتھن نے کہا ’’یہ قطعی غیرضروری ہے‘‘ ۔ دھون کا تبصرہ اس وقت کیا گیا جب بنچ نے جو جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل ہے ، کہا کہ متنازعہ مقام پر آہنی ریلنگ کی تنصیب کے پس پردہ نظریہ اندرونی صحن کو بیرونی آنگن سے علحدہ کرنا تھا ۔ اس حقیقت کے پیش نظرکہ ہندو بیرونی آنگن میں پوجا کررہے ہیں جہاں ’’رام چبوترہ ، سیتا رسوئی ، بھنڈار گرہ واقع ہیں‘‘ ۔ بنچ نے دھون کے اس بیان کو بھی نوٹ کیا کہ صرف ہندوؤں کو اس مقام میں داخل ہونے اور پوجا کرنے کی ’’مجوزہ اجازت ‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ متنازعہ جائیداد پر ان کا حق ملکیت ثابت ہوچکا ہے ۔ بنچ نے استفسار کیا کہ خاص طورپر جائیداد کی ملکیت کے سلسلہ میں کیا کسی تیسرے فریق کو داخلے اور پوجا کی اجازت دی جاتی ہے ۔ پیر کے دن یہ طویل سماعت ایک اہم مرحلہ میں داخل ہوگئی جبکہ دسہرہ تہوار کی تعطیلات کے بعد مقدمہ کی سماعت عدالت نے دوبارہ شروع کی ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے 2010 ء کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 14 اپیلیں داخل ہیں۔ الہٰ آباد ہائیکورٹ نے متنازعہ اراضی تینوں فریقوں سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للامیں مساوی طورپر تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔