جرمنی میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ

   

برلن۔ وفاقی جرمن وزارت داخلہ کے مطابق عدالتوں کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے میں افغان باشندوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دینے کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جرمن پارلیمان میں بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کی رکن اْولا ڑیلپکے کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر وزارت داخلہ کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس جنوری تا مئی سیاسی پناہ کی مسترد درخواستوں پر نظرثانی کے لیے جرمن عدالتوں سے رجوع کرنے والے چار ہزار دو سو بارہ افغان باشندوں کو جرمنی میں تحفظ دینے کے حق میں فیصلہ سامنے آیا، جب کہ ایک ہزار نو دعووں کو رد کیا گیا۔ اس طرح افغان باشندوں کے لیے مسترد درخواستوں پر جرمن عدالتوں سے ریلیف کی شرح 76 فیصد بنتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مزید 2418 کیسز کو یورپی ریاستوں کے درمیان موجود ڈبلن ضوابط کے تحت حل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈبلن معاہدہ کے مطابق یورپی یونین کی وہ ریاست کسی تارک وطن کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے، جہاں وہ شخص سب سے پہلے پہنچا ہو۔