جرمنی میں امتیازی سلوک، ایک وسیع تر سماجی مسئلہ

   

برلن ۔ 14 مارچ (ایجنسیز) جرمنی میں روزمرہ زندگی میں امتیازی رویوں کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد کئی ملین بنتی ہے۔ ایک نئے مطالعے کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا شدید اور پھیلا ہوا ہے۔ کسی سپر مارکیٹ میں شاپنگ کی جا رہی ہو، رہنے کے لیے کرائے کی کسی فلیٹ کی تلاش ہو، یا پھر کام کاج کی جگہ پر، جرمنی میں روزمرہ زندگی میں کئی ملین انسانوں کو امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک نئے مطالعاتی جائزہ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں امتیازی سوچ یا امتیازی رویوں کا مسئلہ کتنا شدید اور پھیلا ہوا ہے۔ جرمنی میں رہنے والوں میں سے ہر آٹھویں انسان کو سال 2022ء￿ میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے ساتھ امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حیران کن نتیجہ ایک ایسے نئے تحقیقی مطالعے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتائج حال ہی میں وفاقی جرمن دارالحکومت برلن میں جاری کیے گئے۔ اس اسٹڈی کو دیا گیا عنوان تھا کہ امتیازی برتاؤ کا سامنا کرنے والا جرمنی۔ اس مطالعہ کے نتائج برلن میں فردا اٹامان نے جاری کیے، جو وفاقی حکومت کی مقرر کردہ لیکن امتیازی رویوں کے خلاف غیر جانبدار کمشنر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مطالعے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جرمنی میں، جس کا شمار دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے، تقریباً نو ملین انسانوں کو محض اس بنیاد پر کس کس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ دیکھنے میں کیسے ہیں۔