برلن: جرمنی میں بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہر انسان کو ایک دن بوڑھا ہونا ہوتا ہے اور تب اسے نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔ بزرگ جرمن شہری پیٹر مْؤلر گزشتہ تین برسوں سے وہیل چیئر کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی بیوی کو رعشہ (پارکنسنز) کی بیماری ہے۔ مْؤلر کا کہنا ہے کہ اگر ان کی پولستانی نگران نہ ہوتی، تو جینا ناممکن ہو جاتا۔ مْؤلر فیملی جس مکان میں رہتی ہے، وہ اس میں نصف صدی قبل شادی کے فوری بعد منتقل ہوئی تھی۔ تین برسوں سے ان کی پولش نگران بھی ان کے ساتھ اسی مکان میں رہ رہی ہے۔ پیٹر مْؤلر کا کہنا ہے کہ اس وقت ان دونوں کی زندگیاں نگہداشت کرنے والی پولش خاتون کی مرہونِ منت ہے۔ پیٹر مؤلر، ان کی بیوی اور پولش خاتون روزانہ ایک ہی میز پر بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے اتنی توجہ کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں جیسے ان میں برسوں کی آشنائی ہے۔ یہ پولش خاتون ان دونوں بزرگوں کی نگہداشت بہت محبت اور شفقت سے کرتی ہے، جیسے وہ اس کے خاندان کے ارکان جرمنی میں بیت المعمرین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جس سے لاکھوں یوروزکی آمدنی بھی ہوتی ہے۔