سفیر جرمن متعینہ ہند فلپ آکرمن کا ٹوئیٹ
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) بیرون ملک تعلیم کے حصول کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک کی جامعات کی جانب سے ہندستانی طلبہ کو داخلوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور امریکہ ‘ برطانیہ‘ نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیاء اور کینیڈا کے بعد جرمنی میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ ہندستانی طلبہ کو جو جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اور جاریہ سال ہندستان سے جرمنی پہنچنے والے طلبہ کی تعداد میں سال گذشتہ کے مقابلہ 25 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔جرمنی میں تعلیمی اداروں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد کا جائزہ لینے والوں کے مطابق جاریہ سال کے دوران 42ہزار ہندستانی طلبہ نے داخلہ لیا ہے جو کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے جرمنی پہنچے ہیں۔جرمن سفیر متعینہ ہند فلپ آکرمن نے اپنے ٹوئیٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے بیرونی طلبہ میں ہندستانی طلبہ کی تعداد دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والوں سے تجاوز کرچکی ہے اور سب سے بڑی تعداد ہندستانی شہریت کے حامل طلبہ کی ہوچکی ہے۔جرمن سفیر نے بتایا کہ ہندستانی طلبہ کی بڑی تعداد جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہے اور ان ہندستانی طلبہ کا جرمنی میں خیر مقدم ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ جرمنی کے ویزا کے حصول میں ہونیو الی تاخیر کو سفارتی عہدیداروں کی جانب سے دور کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہو ںنے مزید بتایا کہ ان کے پاس 35000ہزار ہندستانی طلبہ کی درخواستیں موجود ہیں جو کہ زیر غور ہیں اس کے علاوہ مزید 32000ہزاردرخواستوں کا سفارتی عہدیدار جائزہ لے رہے ہیں۔ آکرمن نے ہندستانی طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ جرمنی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کی جانے والی ملازمت اختیار کرنے کے معاملہ میں چوکس رہیں اور کسی دھوکہ باز کا شکار ہونے کے بجائے سرکردہ ایجنسیوں اور اداروں سے ہی رابطہ کریں تاکہ انہیں کسی بھی طرح کی دھوکہ دہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جرمنی میں ہندستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ جرمنی کے معیاری تعلیمی اداروں ‘ جامعات کے علاوہ کالجس میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں ہونے والے اضافہ کی وجہ نئے کورسس کا آغاز اور ہندستانی طلبہ میں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں ہونے والا اضافہ ہے جسے خود جرمنی بھی ترجیح دینے لگا ہے۔
