جرمنی میں مستحق شہریوں کو 47 بلین یورو ز کی امداد

   

برلن ۔ 17 اگست (ایجنسیز) یہ معلومات جرمنی کی سوشل افیئرز منسٹری نے دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی کے ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ مستحق افراد کیلئے ان ادائیگیوں میں اضافے نے ملکی ویلفیئر پالیسیوں کے حوالے سے سیاسی بحث کو ہوا دی ہے، جبکہ ماہرین اسے افراط زر اور معاشی حالات سے جوڑتے ہیں۔بْرگرگیلڈ جرمنی کے بنیادی ویلفیئر پروگرام کا نام ہے اور اس کے تحت اْن افراد کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جو اپنی بنیادی ضروریات (جیسے رہائش، خوراک اور دیگر اخراجات) پورا کرنے کے قابل نہ ہوں۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر ان لوگوں کیلئے ہے، جو کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بے روزگار ہیں یا ان کی آمدنی ان کے اخراجات کیلئے ناکافی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں حکومتی مالی امداد کے کل 5.5 ملین وصول کنندگان تھے، جن میں بچوں اور نوجوانوں سمیت تقریباً چار ملین افراد کام کی صلاحیت رکھتے تھے، یعنی وہ دن میں کم از کم تین گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔ کل ادائیگیوں کا 52.6 فیصد (24.7 بلین یورو) جرمن شہریوں کو دیا گیا، جبکہ 47.4 فیصد (22.2 بلین یورو) جرمنی میں مقیم غیرملکی شہریوں کو ادا کیا گیا۔ یہ تقسیم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً یکساں ہے۔ غیر ملکی وصول کنندگان میں لاکھوں یوکرینی پناہ گزین شامل ہیں، جو سن 2022 سے روس کی اپنے ملک کے خلاف جنگ سے فرار ہو کر جرمنی آئے۔ انہیں 6.3 بلین یورو ادا کیے گئے۔ اے ایف ڈی کی رکن پارلیمان رینے اشپرنگر نے ان مالی ادائیگیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اخراجات بے قابو ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ” سوائے استثنائی صورتوں کے غیر ملکیوں کی اس مالی امداد تک رسائی ختم کیا جائے۔ تاہم انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ جرمنی میں کام کرنے والے غیر جرمن شہری بھی ٹیکس ادائیگیوں کے ذریعہ اس نظام کا حصہ ہیں۔