نعشوں کو محفوظ کرنے کیلئے دو لاکھ ڈالر کی فیس مقرر، عوام میں دلچسپی
حیدرآباد ۔ 26۔نومبر (سیاست نیوز) اسلامی تعلیمات کے مطابق موت کے بعد دوبارہ زندگی کا تصور موجود ہے لیکن روز قیامت دوبارہ اٹھائے جانے پر ہر مسلمان کا ایمان ہے لیکن سائنسی تحقیق کی بنیاد پر جرمنی کے ایک ادارہ نے عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مستقبل میں سائنسی ترقی کے ذریعہ انسان کے مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔ جرمنی کی ایک کمپنی نے نعشوں کو طویل عرصہ تک محفوظ کرنے کی خدمات فراہم کرنے کا پیشکش کیا ہے جس کے لئے دو لاکھ ڈالر فیس مقررکی گئی۔ کمپنی انسانی نعشوں کو کم درجہ حرارت پر کچھ اس طرح محفوظ کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے جس میں جسم کے اہم اعضاء اور سیلس کو نقصان نہیں ہوگا اور مستقبل میں سائنسی ترقی کے ذریعہ ایسی ادویات ایجاد ہوسکتی ہے جو مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کرسکتی ہے۔ سائنسی ترقی کے نام پر جرمنی کی خانگی کمپنی عوام کو مردہ جسم محفوظ کرنے کی ترغیب دے رہی ہے ۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ محفوظ کرنے کے طریقہ کار سے جسم کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے۔ اس سہولت کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے اور سرمایہ کاری کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں ایسی ٹکنالوجی اور ادویات کی ایجاد ہوسکتی ہے جن کے ذریعہ آج کے تمام امراض کا علاج ہوگا اور مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ یہ عقیدہ و ٹکنالوجی دونوں اسلام سے ٹکراتے ہیں لیکن دوبارہ زندگی پانے کی خواہش میں لوگ دو لاکھ ڈالر خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا جسم مرنے کے بعد ادویات کے ذریعہ کیا واقعی دوبارہ زندہ ہوگا یا یہ محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔1
