جرمنی میں 600 مسلم شدت پسندوں پر حکام کی نظر

   

برلن: یورپ میں اسلام کے نام پر تخریب کاری کے حالیہ واقعات کے بعد جرمنی نے بھی سکیورٹی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔تازہ حملے فرانس اور آسٹریا کے شہروں میں کیے گئے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پیر کو ہوئے حملے میں ملوث ایک حملہ آور پہلے سے پولیس کی نظر میں تھا۔ اس 20 سالہ نوجوان کو پولیس مقابلے کے دوران گولی مار کی ہلاک کر دیا گیا۔اطلاعات ہیں کہ وہ شخص کچھ عرصے سے ملک سے نکلنے اور اسلامک اسٹیٹ نامی مسلح تنظیم میں شمولیت کی کوششیں کر رہا تھا۔ اس کے باوجود سکیورٹی حکام اسے روک نہ پائے۔جرمنی میں سکیورٹی حکام اس سال ستمبر تک 627 ممکنہ شرپسندوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ان میں بیس سالہ عبداللہ بھی شامل ہے، جس نے رواں برس 4 اکتوبر کو ڈریسڈن شہر میں ایک ہم جنس جوڑے پر چاقو سے حملہ کردیا تھا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا تھا۔جرمنی میں حکام کو خدشہ ہے کہ اس قسم کے مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ داخلی سلامتی سے متعلق انٹیلیجنس ایجنسی (BfV) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پچھلے سال تخریب کاری کی کئی ممکنہ کارروائیاں ناکام بنانے کا ذکر کر چکی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت زیادہ خطرہ ایسے حملہ آوروں سے ہے جو کسی انتہا پسند یا مسلح تنظیم کے پروپگینڈے سے متاثر ہو کر اکیلے ہی حملوں کے لیے نکل پڑتے ہیں۔جرمن زبان میں معاشرے کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو ‘گیفیرڈیر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا انگریزی میں متبادل ‘ایجیٹیٹر‘ ہے۔ اردو میں اسے مْشتعل یا شرپسند کے معنوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔یہ اصطلاح جرمن پولیس کی تراشی ہوئی ہے لیکن اب ملک میں اس کا استعمال عام ہوگیا ہے۔یہ مشتبہ افراد عام طور پر کسی سیاسی یا مذہبی نظریے سے متاثر ہو کر اکیلے ہی واردات کرنے نکل پڑتے ہیں۔
ان افراد کو حراست میں صرف اسی وقت ہی لیا جا سکتا ہے جب کسی جرم کی منصوبہ بندی کرنے کے شواہد دستیاب ہو جائیں۔
جرمنی میں کسی کلعدم دہشت گرد تنظیم کی رکنیت ایک سنگین جرم ہے۔