برلن : جرمن صوبے باویریا کے اسکولوں میں اسلامیات کی باقاعدہ تعلیم متعارف کرانے کے قانون کے خلاف آئینی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اس مضمون کو متعارف کرانے کی آئینی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ سے جمعرات آٹھ جولائی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے باویریا میں قائم بینچ میں اس مقدمے کے دائر کیے جانے کی عدالت کی ایک ترجمان نے تصدیق کر دی۔ترجمان کے مطابق اس آئینی درخواست میں معروف ماہر تعلیم ایرنسٹ گْنٹر کراؤزے، باویریا میں فکری آزادی کی تنظیم، اس کی میونخ میں قائم شاخ اور جوردانو برونو فاؤنڈیشن نامی ادارے کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم متعارف کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی آئین کے تحت وہ شرائط پوری نہیں کی گئیں، جن سب کا ایسے کسی پارلیمانی فیصلے کے دوران پیش نظر رکھا جانا لازمی تھا۔
اس مقدمے کے دائر کیے جانے سے صرف ایک روز قبل منگل 6جولائی کی شام میونخ میں باویریا کی صوبائی پارلیمان نے فیصلہ کیا تھا کہ ریاستی اسکولوں میں اسلامی علوم کی تعلیم کا ایک ایسا اختیاری مضمون متعارف کرایا جانا چاہیے، جس کا طلبا و طالبات اگر چاہیں تو اپنے لیے آزادانہ انتخاب کر سکیں۔