برلن۔ جرمن شہر میونخ کے دفتر استغاثہ کے مطابق چار ماہ قبل ایک ہائی اسپیڈ انٹرسٹی ٹرین میں چاقو زنی کے واقعہ کا تعلق غالباً مسلم انتہا پسندانہ سوچ سے تھا۔ اس لیے اب یہ معاملہ شہر کارلسروہے میں وفاقی اٹارنی جنرل کے دفتر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ برس 6 اکتوبر کو جنوبی جرمن ریاست باویریا کے شہر ریگنزبْرگ سے نیورمبرگ کی طرف رواں ایک انٹر سٹی ایکسپریس میں پیش آیا تھا۔ ایک 27 سالہ ملزم نے 26 سے لے کر 60 برس تک کی عمر کے چار مسافروں کو چاقو سے حملے کر کے زخمی کر دیا تھا۔ ملزم ایک شامی باشندہ ہے جو اس وقت سے زیر حراست ہے۔ تفتیشی ماہرین کے مطابق ملزم کے قبضہ سے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی پروپیگنڈا ویڈیوز بھی برآمد ہوئی تھیں۔