برلن ۔ 4 اپریل (ایجنسیز) جرمن براڈکاسٹر اے آر ڈی کے ایک تازہ سروے کے مطابق 84 فیصد شہری حکومتی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ چانسلر میرس کی مقبولیت 21 فیصد تک گر گئی ہے جبکہ نائب چانسلرکلنگ بائل کی مقبولیت 18 فیصد رہ گئی ہے۔ جرمنی میں رواں سال کے پہلے دو ریاستی انتخابات مکمل ہونے کے بعد وفاقی حکومت کی سرگرمیاں دوبارہ تیز ہونا شروع ہو گئی ہیں، تاہم حکمران اتحاد کو شدید عوامی دباؤ اور گرتی ہوئی مقبولیت کا سامنا ہے۔ کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو)، کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) پر مشتمل حکومتی اتحاد نے کئی ہفتوں تک حکمرانی کے اہم فیصلے مؤخر رکھے، تاکہ باڈن ورٹمبرگ اور رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے ریاستی انتخابات میں ووٹروں کو ناراض نہ کیا جائے۔ لیکن اس دوران معیشت کو سنبھالنے کیلئے درکار اہم اصلاحات تاخیر کا شکار رہیں، جن میں سماجی سہولیات میں ممکنہ کٹوتیاں بھی شامل ہیں۔ چانسلر فریڈرش میرس نے مئی 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ’’اصلاحات کا موسم خزاں‘‘ لانے کا وعدہ کیا تھا، مگر یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ طویل جمود اور سیاسی تعطل اب حکومت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ جرمنی کے عوامی نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے تازہ ترین ’ڈوئچ لینڈ ٹرینٹد‘ نامی سروے کے مطابق 84 فیصد باشندے وفاقی حکومت کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ یہاں تک کہ میرس کی اپنی قدامت پسند جماعت کے حامی بھی موجودہ مخلوط حکومت پر اعتماد کھو رہے ہیں۔