جرم اور سزا :کیا ہندوستانی نظام اِنصاف رسانی جانبدارہے؟؟

   

رام پنیانی
ہندوستانی معاشرہ کئی قسم کے تشدد سے متاثر رہا ہے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس میں سے دو قسم کے تشدد انتہائی خطرناک ہیں جن میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردانہ کارروائیاں شامل ہیں۔ تشدد کی ان دو اقسام نے پچھلے چند دہوں سے ہمارے معاشرے کے جو انسانی اقدار ہیں، انہیں دہلاکر رکھ دیا ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کے بارے میں ہم غور کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا آغاز ہندوستانی تہذیب کی جڑوں اور امن و امان، محبت و آشتی، اخوت و بھائی چارگی پر مبنی روایتوں اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے انگریزوں کے دور میں کیا گیا اور اب وہی فرقہ وارانہ تشدد مذہبی اقلیتوں کے خلاف اکثریتی تشدد کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ انگریزوں کے دور میں صرف اور صرف ہندوستانی باشندوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کی جاتی تھی۔ نوآبادیاتی دور میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور اسی کے نتیجہ میں آج ہم ایک طرح کی جنون پسندی کا رجحان دیکھ رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد اکثریتی تشدد میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور پھر اکثریتی تشدد نے معاشرہ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ اس کیلئے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف کارروائیوں اور مہم میں شدت پیدا کی گئی۔ حد تو یہ رہی کہ نظام انصاف ایسا بنایا گیا کہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاطیوں کو بناء کسی سنگین سزا کے چھوڑ دیا گیا۔ (اس ضمن میں گجرات اور ملک کے مختلف مقامات پر برپا کئے گئے فسادات میں مذہبی اقلیتوں کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا اس کے باوجود اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاطیوں کو گرفتار کرنے، انہیں سخت ترین سزا دینے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے بجائے خاطیوں کو اکثر مقدمات میں گرفتار ہی نہیں کیا گیا اور اگر گرفتاری ہوئی بھی تو انہیں جلد ضمانت پر رہا کردیا گیا جس کی بدترین مثال گجرات کے نروڈا پاٹیہ میں 97 مسلمانوں کے قتل عام کا مجرم بابو بجرنگی اور سابق وزیر مایا کوڈنانی کی ضمانتوں پر رہائی ہے۔ بابو بجرنگی نے تو مسلمانوں کو قتل کرنے اور انہیں مارنے، کاٹنے اور شہیدوں کی نعشوں کو ایک گڑھے میں ڈال کر آگ لگانے کا اعتراف بھی کیا۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ نریندر بھائی نے ان مسلمانوں کے قاتلوں کو ضمانت دلانے کیلئے تین ججس بھی بدلے۔ ویب سائٹ ’’وکی پیڈیا‘‘ پر بھی یہ تفصیلات درج ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ماب لنچنگ کے بے شمار واقعات پر بھی متعلقہ ریاستوں میں خاطیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی اور پولیس نے اُلٹے متاثرین کے خلاف مقدمات درج کردیئے۔
ہم نے دہشت گردانہ تشدد بھی دیکھا ہے۔ مارچ 1993ء میں ممبئی بم دھماکوں کے ساتھ اس کا آغاز ہوا پھر دہشت گردانہ تشدد میں کمی آئی، لیکن 2006ء تا 2008ء کے دوران اور پھر سنکٹ مورچہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ہم نے مالیگاؤں، حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد، اجمیر میں درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کے واقعات دیکھے ہیں۔ 2008ء میں گجرات کے احمدآباد میں بھی سلسلہ وار بم دھماکوں کا مشاہدہ کیا جہاں چند گھنٹوں کے اندر ہی کئی بم دھماکے ہوئے جن میں 56 افراد مارے گئے اور تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے۔
ان تمام واقعات پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے نظام انصاف رسانی نے دہشت گردانہ اور فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق مقدمات سے کیسے نمٹا۔ حال ہی میں فروری 2002ء میں خصوصی عدالت نے جو فیصلہ سنایا، اس فیصلے کے مطابق 38 مسلمانوں کو سزائے موت سنائی گئی اور 11 ملزمین کو سزائے عمر قید کا حق دار قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ احمدآباد میں پیش آئے بم دھماکوں کے واقعات سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ انصاف کے اصولوں کو برقرار تو رکھا گیا اور جن کے خلاف شواہد موجود تھے، انہیں سزا دی گئی، لیکن مالیگاؤں تا اجمیر شریف سلسلہ وار بم دھماکوں کا کیا ہوا، ان مقدمات میں کس طرح کا انصاف کیا گیا۔ یہ دھماکے زیادہ تر مسلم عبادت گاہوں میں ایسے وقت پر ہوئے تھے جب مسلمان باجماعت نماز ادا کررہے تھے یا کثیر تعداد میں جمع ہوئے تھے۔ ان مقامات پر جو دھماکے ہوئے ان میں مرنے والوں کی تعداد 100، 200 رہی ہوگی اور نظام انصاف رسانی پولیس تحقیقات سے شروع ہوا۔ ابتداء میں ان تمام مقدمات میں تحقیقات جن خطوط پر کی گئی وہ یہی تھا کہ تمام دہشت گرد مسلمان ہیں۔ یہاں تک کہ ان واقعات میں مارے جانے والے یا زخمی ہونے والے اور متاثر ہونے والے تمام کے تمام مسلمان تھے، لیکن پولیس نے تحقیقات کی اور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ وہ بھی تمام کے تمام مسلمان۔ جب ان مسلمانوں کو دہشت گردانہ واقعات کے ضمن میں گرفتار کیا گیا تب اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ خبریں پیش کیں۔ ٹی وی چیانلس پر خوب چیخ و پکار کی گئی۔ زیادہ تر واقعات میں جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ، ان کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا، ان کا مستقبل تباہ و برباد کردیا گیا لیکن چند سال بعد شواہد ناکافی ہونے کے نتیجہ میں اکثر مسلمانوں کو رہا کردیا گیا، مگر ان نوجوانوں کے بے گناہ ہونے اور رہائی پانے کے بارے میں شہ سرخیوں کے ساتھ خبریں نہیں دی گئیں بلکہ اخبارات کے اندرونی صفحات پر معمولی خبروں کے طور پر دیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی یہی حال رہا۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ کی حیثیت سے ہیمنت کرکرے نے جائزہ حاصل کیا اور بڑی گہرائی سے تحقیقات کیں اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مالیگاؤں بم دھماکے میں جو موٹر سائیکل استعمال کی گئی، وہ کسی اور کی نہیں بلکہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی جو کبھی اے بی وی پی سے وابستہ تھی۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہی پرگیہ جو مالیگاؤں بم دھماکے کی ایک ملزمہ ہے ، بھوپال سے پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہوئی۔ منتخب کیا ہوئی بلکہ اسے منتخب کروایا گیا۔ مالیگاؤں بم دھماکوں سے متعلق مقدمہ کی وہ ملزمہ ہیں لیکن صحت کے مسائل کی بنیاد یا بہانہ پر اکثر ضمانت پر رہتی ہیں۔ وہ عدالت کو بتاتی ہیں کہ بیمار ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ضمانت پر رہنے کے دوران کرکٹ یا باسکٹ بال کھیلتے ہوئے اس کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں ، اس کے باوجود عدالتیں میڈیکل گراؤنڈ پر اسے ضمانت پر ضمانت دیتی ہیں۔ مہاراشٹرا انسداد ِ دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے نے بڑی دیانت داری اور غیرجانبداری کے ساتھ مالیگاؤں اور حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد اور دیگر مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کی گہرائی سے تحقیقات کی اور ایسے بے شمار لوگوں کو گھیرے میں لیا جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح ماضی میں آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ تنظیموں سے تھا۔ ان میں سے کچھ سرگرم کارکن بھی تھے۔ مثال کے طور پر ہیمنت کرکرے نے وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے سوامی اسیمانند ، لیفٹننٹ کرنل پرساد شریکانت پروہت (ریٹائرڈ) ، میجر اپادھیائے اور کئی لوگوں کو گرفتار کیا۔ ایک مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اقبالی بیان میں سوامی اسیمانند نے اس تمام عمل کی تفصیلات بتائیں جس میں اس نے دیگر ملزمین کے ساتھ مل کر خودکش دستے تشکیل دیئے تھے۔ اس دوران ناندیڑ میں راج کنداور کے مکان میں دھماکہ ہوا جس میں بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد کی گئی تحقیقات میں اسیمانند اور پرگیہ سنگھ ٹھاکر سے ربط ضبط رکھنے والے کارکنوں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا لیکن بعد میں 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے دوران مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کا قتل کردیا گیا اور پھر پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالین کو ہدایات جاری کی گئی کہ ان مقدمات میں تیزی نہ دکھائیں۔ اسی طرح سوامی اسیمانند نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ عدالت کے روبرو اس کا اقبالی بیان دباؤ میں دیا گیا بیان تھا۔ سوامی کے اس بیان کو قبول کرلیا گیا اور پھر اس کی رہائی عمل میں آئی۔ بم دھماکوں کے تقریباً تمام ملزمین کو ضمانتیں دی گئیں اور باقی مقدمات کو بند کردیا گیا۔ ہنوز دو ورکرس جو سابق میں آر ایس ایس کے پرچارک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یعنی دویندر گپتا اور بھاویش پاٹل اجمیر شریف بم دھماکوں کے سلسلے میں جیلوں میں بند ہیں۔ اس وقت یہ کہا جانے لگا تھا کہ یو پی اے حکومت ، ہندو قوم پرستوں کو جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرنا چاہتی ہے۔ بہرحال احمدآباد بم دھماکوں سے متعلق مقدمے کے فیصلے اور مالیگاؤں و دیگر مقامات پر کئے گئے مقدمات میں جو فیصلے سنائے گئے اور جو موقف اختیار کیا گیا ، ان میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے ، کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ سوامی اسیمانند کو بری کرنے والے جج جگدیپ سنگھ نے اپنا فیصلہ کچھ یہ کہتے ہوئے ختم کیا تھا ، بہت ہی تکلیف اور غم و غصہ کے ساتھ یہ فیصلہ سناتا ہوں، کیونکہ تشدد کے بدترین واقعات میں ملوث ملزمین سزا پانے سے بچ گئے ، اور اس کی وجہ ان کے خلاف ناکافی شواہد ہیں۔حالانکہ سرکاری گواہوں اور وکیلوں کے بیانات اور مباحث میں کافی غلطیاں تھیں۔ اس طرح آج بھی ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے کون کارفرما تھا ، اس پر راز کے پردے پڑے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ’’ دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور تعصب و جانبداری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ نظریہ پھیلا دیا گیا ہے کہ تمام دہشت گرد مسلمان ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مختلف مسلم عبادت گاہوں میںجو دہشت گرد حملے کئے گئے یا بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے، اس میں ہندوتوا دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے باوجود کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ خاطیوں کو سزائیں دینے سے گریز کیا گیا۔ ممبئی تشدد میں لوگ مارے گئے تھے جن میں سے 80% مسلمان تھے۔ تحقیقات اور کمیشن کی رپورٹ کے باوجود ایک مجرم بھی سزائے موت نہیں سنائی گئی ۔ اس کے برعکس ممبئی بم دھماکوں میں دو کو سزائے موت اور دو کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئی۔ گجرات میں 2002ء کے قتل عام میں تقریباً 2000ء انسانی زندگیاں تلف ہوئیں۔ احسان جعفری بھی مارے گئے لیکن وہ مقدمہ اب بھی عدالتوں میں لٹک رہا ہے۔