فون ٹیاپنگ تحقیقات حق بجانب، کے سی آر تلنگانہ کے خودساختہ بابائے قوم، جسٹس سدرشن ریڈی کو راوی نارائن ریڈی نیشنل ایوارڈ کی پیشکشی
حیدرآباد ۔2 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فون ٹیاپنگ معاملہ کی جانچ کیلئے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو ایس آئی ٹی کی نوٹس کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے بی آر ایس قائدین کے اعتراضات کو مسترد کردیا ۔ چیف منسٹر نے سوال کیا کہ آپ جرم کریں گے اور کوئی سوال بھی نہ کرے، یہ کیسے ممکن ہے ؟ چیف منسٹر آج سرکردہ کمیونسٹ رہنما راوی نارائن ریڈی میموریل ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ راوی نارائن ریڈی نیشنل ایوارڈ جسٹس سدرشن ریڈی کو پیش کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے راوی نارائن ریڈی کی عوامی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظام حکمرانی کے خلاف نارائن ریڈی نے جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے 500 ایکر اراضی غریبوں میں تقسیم کی اور اپنے خاندان کے لئے کبھی نہیں سوچا ۔ چیف منسٹر نے راوی نارائن ریڈی کی عوامی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ بعض قائدین اپنے آپ کو تلنگانہ کا بابائے قوم قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے جو غلطیاں کی ہیں، اس پر نوٹس دی گئی تو بھڑک اٹھے اور سارے تلنگانہ سماج کو نوٹس قرار دیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر حقیقی معنوں میں تلنگانہ کے بابائے قوم ہیں تو پھر مہاتما گاندھی سے سبق لیں جنہوں نے کوئی عہدہ حاصل نہیں کیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے اپنے خاندان کیلئے کچھ بھی نہیں پوچھا اور 30 سال تک انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران پروفیسر کودنڈا رام نے جے اے سی کے صدرنشین کی حیثیت سے تلنگانہ کی تمام پارٹیوں اور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کارنامہ انجام دیا تھا ۔ کودنڈا رام کی قیادت میں تلنگانہ تحریک چلائی گئی لیکن بی آر ایس دور حکومت میں ان کے گھر کے دروازہ توڑتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ آخر کودنڈا رام کا کیا قصور تھا ؟ بی آر ایس دور حکومت میں کئے گئے جرم پر کسی نے دروازے توڑ کر گرفتار نہیں کیا بلکہ صرف نوٹس دی گئی۔ نوٹس ملنے پر ضعیف العمری کا بہانہ بناتے ہوئے پولیس کو فارم ہاؤز آنے کا مشورہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے بابائے قوم اور خود ساختہ جہد کار نے اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں ایکر پر فارم ہاؤز تعمیر کیا۔ ٹی وی چیانل اور اخبار شروع کیا گیا اور افراد خاندان کے کئی ہزار کروڑ کے اثاثہ جات ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہ سب کچھ رکھتے ہوئے آپ بابائے قوم کیسے ہوسکتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسترد کئے گئے قائدین بھی خود کو جہد کار اور بابائے قوم قرار دے رہے ہیں۔ عوام نے کے سی آر کو ایم ایل اے الیکشن میں شکست سے دوچار کیا اور لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کا ایک بھی رکن پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے پر عوامی زندگی سے سبکدوشی کا اعلان کرنے کے بجائے الٹا پولیس کی تحقیقات پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بابائے قوم کا یہی رویہ ہونا چاہئے ؟ کمیونسٹ رہنما راوی نارائن ریڈی نے اپنی اراضی اور جائیدادیں عوام کیلئے قربان کردی تھیں لیکن موجودہ وقت کے خود ساختہ بابائے قوم نے نہ صرف عہدے حاصل کئے بلکہ افراد خاندان کو بھی نوازا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دستور اور قانون کی نظر میں تمام برابر ہیں اور کوئی بھی تحقیقات سے بچ نہیں سکتا۔ اقتدار کے دوران جو بھی غلطیاں کی گئیں ، اس کی جانچ کا سامنا کرنا ہوگا۔ شیبو سورین ، لالو پرساد یادو ، یدی یورپا اور جیہ للیتا بھی تحقیقات کا سامنا کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس سربراہ ابھی بھی بادشاہت اور شاہی کے دور میں خود کو تصور کر رہے ہیں۔ بادشاہت کا دور ختم ہوچکا ہے اور جمہوریت میں ہے۔ ہر شخص کو عہدہ پر کی گئی غلطیوں کی تحقیقات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے جہد کار پروفیسر کودنڈا رام کو کانگریس حکومت نے کونسل کی رکنیت دی لیکن بی آر ایس نے سپریم کورٹ تک جاکر ان کی رکنیت کو ختم کرایا۔ آخر کودنڈا رام کا قصور کیا تھا اور ان سے اس قدر دشمنی کیوں ہے؟ تقریب میں سی پی آئی قائدین ڈاکٹر کے نارائنا، چاڈا وینکٹ ریڈی ، سید عزیز پاشاہ ، پی وینکٹ ریڈی ، پروفیسر کودنڈا رام اور دیگر قائدین شریک تھے۔1