قابض کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت، ریوینو ڈپارٹمنٹ کی نوٹس حق بجانب
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے نظام پیٹ کے علاقہ میں صحافیوں کی کوآپریٹیو سوسائٹی کو الاٹ کردہ اراضی پر ناجائز قبضہ کے معاملہ میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے سروے نمبر 332 واقع نظام پیٹ پر ناجائز قابض کو سوال کیا کہ وہ غیر مجاز قبضہ چھوڑنے اور موجودہ اسٹرکچر ہٹانے کیلئے کتنا وقت لیں گے۔ یہ اراضی جواہر لال نہرو میچولی ایڈیڈ جرنلسٹ کوآپریٹیو ہاوزنگ سوسائٹی کو الاٹ کردہ 32 ایکر اراضی کا حصہ ہے۔ ریوینو حکام کی جانب سے جاری کردہ تخلیہ کی نوٹس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر جسٹس نوین راؤ نے کہا کہ درخواست گذار سرکاری اراضی پر قابض ہے اور اس نے خود یہ اعتراف کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عہدیداروں نے قانون کے مطابق تخلیہ کی نوٹس دی ہے۔ جسٹس نوین راؤ نے درخواست گذار کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے موکل سے دریافت کریں کہ اراضی خالی کرنے کیلئے کتنا وقت چاہیئے۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے ریوینو حکام کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر تخلیہ کی کارروائی نہ کریں اور درخواست گذار کو اس کیلئے وقت دیا جائے۔ تحصیلدار این آر سریتا نے تخلیہ کی نوٹس جاری کی تھی۔ ہاؤزنگ سوسائٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قابض کو تخلیہ کیلئے بارہا توجہ دلائی گئی تھی لیکن وہ مقدمات دائر کرتے ہوئے اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔