ماسکو : روسی حکام نے ایران میں سیکس ورکرز کو نشانہ بنانے والے سیریل کلر کے بارے میں ایوارڈ یافتہ فلم کی ریلیز کو اچانک روک دیا ہے۔یہ فلم 11 مئی کو روس میں بڑی اسکرینوں پر آئی لیکن ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد وزارت ثقافت نے فلم کا ڈسٹری بیوشن لائسنس واپس لے لیا۔ڈینش ۔ایرانی ہدایت کار علی عباسی کی ہدایت کاری میں بننے والی “ہولی اسپائیڈر”، ایران عراق جنگ کے ایک سابق فوجی کے بارے میں ایک سچی کہانی سے متاثر تھی جس نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایران کے دوسرے بڑے شہر اور اہم مذہبی شہر ”مشہد” میں 16 سیکس ورکرز کو ہلاک کر دیا تھا۔فلم کو روکنے کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے باعث مغرب میں ماسکو کی بڑھتی ہوئی تنہائی کے دوران روس اور ایران تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔فروری 2022 میں صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے یوکرین میں فوج بھیجنے کے بعد سے روس تیزی سے قدامت پسند ہو گیا ہے۔روسی وزارت ثقافت نے کہا کہ فلم کی ریلیز کو ” فلم میں ایسے مواد اور معلومات کی وجہ سے منسوخ کیا گیا ہے جن کی نشر کرنا روسی فیڈریشن کی قانون سازی کے مطابق ممنوع ہے۔”واضح رہے کہ ہدایت کار علی عباسی کو ایران میں فلم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور آخرکار “ہولی اسپائیڈر” کی شوٹنگ اردن میں کی گئی۔پچھلے سال، زر عامر ابراہیمی نے کانز فلم فیسٹیول میں “ہولی اسپائیڈر” میں قتل کی تحقیقات کرنے والی صحافی کے کردار کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتا تھا۔