جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کو تبدیل کرنے سپریم کورٹ کی حکومت کو ہدایت

   

(برقی تحقیقاتی کمیشن معاملہ میں کے سی آر کو جزوی راحت)
تحقیقاتی کمیشن کو غیر جانبدار ہونا چاہئے، نئے ریٹائرڈ جج کے تقرر کے ذریعہ تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت

حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر راؤ کو برقی تحقیقاتی کمیشن کے معاملہ میں سپریم کورٹ سے جزوی راحت ملی ہے۔ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدات اور یادادری اور بھدرادری پاور پراجکٹس کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے حکومت کی جانب سے قائم کردہ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کمیشن کو کالعدم کرنے کیلئے کے سی آر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائیکورٹ کی جانب سے اِس سلسلہ میں درخواست مسترد کردی گئی جس پر کے سی آر نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ کی زیرقیادت بنچ نے آج کے سی آر کی درخواست کی سماعت کی اور مباحث کی تکمیل کے بعد تلنگانہ حکومت کو کمیشن کا صدرنشین تبدیل کرتے ہوئے جسٹس نرسمہا ریڈی کی جگہ کسی اور ریٹائرڈ جج کے تقرر کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیشن کو کالعدم کرنے کی درخواست قبول نہیں کی جس کے نتیجہ میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیشن برقرار رہے گا۔ کے سی آر کی جانب سے نامور قانون داں مکل روہتگی نے دلائل پیش کرتے ہوئے کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جسٹس نرسمہا ریڈی کمیشن نے تحقیقات کے دوران ہی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ کے سی آر کے وکیل کی جانب سے ریٹائرڈ جسٹس نرسمہا ریڈی کی میڈیا کانفرنس سے متعلق اخبارات کے تراشے عدالت میں پیش کئے گئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جسٹس نرسمہا ریڈی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے برقی خریدی معاہدات میں کے سی آر کے ملوث ہونے کی بات کہی۔ تحقیقات کی تکمیل سے قبل ہی ریٹائرڈ جج نے کے سی آر کو ملزم کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ حکومت کی نمائندگی کرنے والے نامور قانون داں ابھیشک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس نرسمہا ریڈی نے صرف تحقیقات کے موقف کے بارے میں میڈیا سے بات چیت کی اور اُن سے منسوب بیشتر بیانات میڈیا کی اختراع ہے۔ کے سی آر کے وکیل نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت ریاست برقی بحران کا شکار تھی لہذا چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدات کئے گئے۔ 3 روپئے 90 پیسے فی یونٹ کے حساب سے برقی خریدی کی گئی جو مارکٹ ریٹ سے کافی کم ہے۔ سپریم کورٹ نے سوال کیاکہ خریدی معاہدے کیلئے اوپن ٹنڈرس کیوں طلب نہیں کئے گئے جس پر کے سی آر کے وکیل نے کہاکہ ریاست کے برقی بحران کو دیکھتے ہوئے ہنگامی صورتحال میں یہ معاہدہ کیا گیا۔ جسٹس نرسمہا ریڈی کمیشن نے کے سی آر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کمیشن نے پراجکٹس کے قیام اور برقی خریدی کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے لئے کے سی آر کو نوٹس جاری کی تھی۔ فریقین کی سماعت کے بعد چیف جسٹس چندرچوڑ نے ریٹائرڈ جج نرسمہا ریڈی کی جانب سے پریس میٹ کے انعقاد پر سخت اعتراض جتایا۔ اُنھوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ کمیشن کے صدرنشین کو تبدیل کرتے ہوئے کسی اور جج کا تقرر کیا جائے۔ چیف جسٹس نے نئے صدرنشین کے ساتھ تحقیقات جاری رکھنے کی حکومت کو ہدایت دی۔ حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ سے کہاکہ اندرون 24 گھنٹے نئے ریٹائرڈ جج کے تقرر کے بارے میں سپریم کورٹ کو واقف کرایا جائے گا۔ سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا ریڈی نے اپنے وکیل کے ذریعہ سپریم کورٹ کو مکتوب روانہ کیا جس میں بتایا گیا کہ وہ تحقیقات سے دستبرداری اختیار کررہے ہیں۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے کے سی آر کی درخواست کی یکسوئی کرتے ہوئے سماعت کو مکمل قرار دیا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ کمیشن کے صدرنشین کی جانب سے تحقیقات کے درمیان اپنی رائے کے اظہار سے گریز کرنا چاہئے۔ تحقیقاتی کمیشن کو کسی بھی جانبداری کے بغیر اپنے کام کی تکمیل کرنی چاہئے۔ 1